میثاق جمہوریت اور این آر او کا رضاعی رشتہ،سلیم کاوش

0
301

میثاق جمہوریت اور این آر او دونوں مشرف دور کی پیدا وار ہیں. بعید از امکاں نہیں کہ این آر او کے ساتهہ ساتهہ میثاق جمہوریت بهی مشرف کی خفیہ مہربانی ہو.

آمریت کے بطن سے پیدا ہونے والی دونوں ناپختہ جمہوری جماعتوں میں ڈکٹیٹر سے نپٹنے کے حوصلے کا فقدان اس بات کی واضح دلیل ہے.

ایک نے مشرف صاحب کو ریڈ کارپٹ اور گارڈ آف آنر پیش کیا جب کہ دوسری نے انہیں ملک سے باہر جانے دیا. دوہزار آٹھ سے پی پی پی اور ن لیگ کہ کرپٹ حکومتوں کا بے خوف و خطر کرپشن اور لا قانونیت سمیت تسلسل بهی اسی بات کی غمازی کرتا ہے.

مجهے لگتا ہے کہ میثاق جمہوریت کے تحت فوج کو مارشل لاء لگانے سے روکنے کی شق والا مسودہ فوج کو دکهایا گیا ہوگا.
ہمارے سیاستدان اتنے پختہ نہیں کہ اکیلے فیصلہ کر سکیں.

اکیلے فیصلہ کرنے والے حکمران ہمیشہ عوام کو ساتهہ لے کر چلتے ہیں.

جب حکمران عوام سے دور رہیں تو انہیں اپنی بقا کیلئے اندرون خانہ فوج اور بیرون خانہ بڑی طاقتوں سے بنا کر رکهنا پڑتی ہے.
لہذا پاکستان میں خالص جمہوریت لانے کیلیے این آر او اور میثاق جمہوریت کو منسوخ کر کے ان کے مستفید لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہو گا.

(سلیم کاوش)

SHARE

LEAVE A REPLY