بھارت نے غلطی سے لائن آف کنٹرول پار کرجانے والے آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ بچے کو ’جاسوس‘ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا تاہم آزاد کشمیر کے حکام نے بھارت کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

بھارتی فوج نے 12 سالہ پاکستانی لڑکے کو جاسوسی کے شبے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی لڑکے کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راجوری میں ایل او سی عبور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

تاہم آزاد جموں کشمیر کے سول حکام نے اس بھارتی دعوے کو مسترد کردیا ہے، آزاد جموں و کشمیر کے سینیئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے ڈان کو بتایا کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں ایل او سی پر کسی قسم کا نشان موجود نہیں ہو وہاں ایسے معمول کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لہٰذا ایسی جگہ پر بھارتی دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک ایسے ملک سے اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے جو سرحد پار سے آنے والے پرندوں کو بھی جاسوس کہتا ہے‘۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ اگر سوال غلطی سے سرحد عبور کرنے کا ہے تو یہ غیر معمولی نہیں ہے، کیونکہ ایل او سی کے دونوں جانب لوگ اکثر مویشی چرانے, لکڑیاں جمع کرنے اور دوائی بنانے کے لیے پودے اکٹھا کرنے کی غرض سے غلطی سے ایل او سی عبور کر لیتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لڑکے کی شناخت اشفاق علی چوہان کے نام سے ہوئی ہے جو کہ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ سپاہی حسین ملک کا بیٹا ہے جس کا تعلق آزاد کشمیر ضلع بھمبر کے گاؤں ڈنگر پل سے ہے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بھمبر میں موجود پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اب تک کسی بھی خاندان کی جانب سے ان کے 12 سالہ لڑکے کی گمشدگی کی پورٹ درج نہیں کرائی گئی ہے اور نہ ہی اس امر میں کسی کمشدگی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

بھمبر سیکٹر میں موجود پولیس حکام نے ڈنگر پل نامی گاؤں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی گاؤں اس جگہ پر موجود ہی نہیں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY