لوچستان ہائی کورٹ نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف سمیت دیگر ملزمان کی بریت کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گذشت برس 18 جنوری کو سابق فوجی آمر پرویز مشرف، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کو نواب اکبر بگٹی قتل کیس سے بری کردیا تھا، تاہم اس فیصلے کو اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے آج بروز بدھ (30 اگست کو) انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم سناتے ہوئے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست خارج کردی۔

اس حوالے سے جمیل بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے اہم رہنما نواب اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006 کو کوہلو میں اس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے حکم پر کیے جانے والے ایک کریک ڈاؤن میں اُس وقت ہلاک ہوگئے تھے، جب وہ ایک غار میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

ان کے بیٹے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے پرویز مشرف، سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز، آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور دیگر اعلیٰ حکام کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

بگٹی نے مسلح مہم کے ذریعے صوبائی حکومت سے بلوچستان کے قدرتی وسائل سے بڑا حصہ اور مزید خود مختاری کا تقاضہ کیا تھا، ان کی موت سے صوبے بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور آج تک بلوچستان کے حالات معمول پر نہیں آسکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY