چین نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مناسب انداز میں حالیہ جاری سرحدی تنازع کو حل کرلیں گے اور خطے میں امن و امان کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

افغان فورسز کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم پر فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے متعلقہ رپورٹس چینی حکام کے نوٹس میں آئی ہیں’۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان اور پاکستان کے قریبی ہمسایہ ہونے کے باعث چین اس اُمید کا اظہار کرتا ہے کہ دونوں ممالک اس معاملے کو مناسب انداز میں حل کرلیں گے’۔

ترجمان نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن و امان کے قیام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 5 مئی کو بلوچستان کے علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں پر افغان بارڈر فورسز نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب گذشتہ روز آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک-افغان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا جس میں 50 افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

بعد ازاں پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیل وال نے گذشتہ ہفتے چمن میں پاک-افغان فورسز کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں افغانستان کے 50 فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں صرف 2 افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY