عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو 5 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
لاہور کی مقامی عدالت میں جاوید لطیف کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں پولیس انہیں سخت سکیورٹی میں ماڈل ٹاؤن کچہری لائی۔
رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کو مجسٹریٹ صابر ڈارکی عدالت میں پیش کیاگیا جہاں سرکاری وکیل اور جاوید لطیف کے وکلا نے دلائل دیے۔
پولیس نے جاوید لطیف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو تقریباً 2 گھنٹے بعد سنایا گیا۔
عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے جاوید لطیف کو 5 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
واضح رہےکہ سیشن عدالت سے عبوری ضمانت کے اخراج کے بعد گزشتہ روز جاوید لطیف کوگرفتار کیا گیا تھا۔
……………………..
لاہور ہائی کورٹ نے جاوید لطیف کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق پنوں نے جاوید لطیف کے بھائی منور لطیف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے کل جواب طلب کر لیا۔
درخواست میں نون لیگی رہنما جاوید لطیف کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جاوید لطیف کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی سے منظوری نہیں لی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر گرفتاری کا کوئی جواز نہیں، سی آئی اے پولیس نے جاوید لطیف کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے
……………………….
لاہور کی سیشن عدالت نے ریاست مخالف کیس میں مسلم لیگ نون کے رہنما جاوید لطیف کی عبوری ضمانت خارج کر دی جس کے بعد انہیں عدالت میں گرفتار کرلیا گیا۔
سیشن کورٹ لاہور نے جاوید لطیف کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اس سے قبل ریاست مخالف کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے جاوید لطیف کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کر دی۔
سرکاری وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کا متنازع بیان اپنے لیڈر کی محبت میں حدود سے تجاوز کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف کے بیان کی سی ڈی کو فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، پراسیکیوشن کا کیس قانون کے تمام تقاضوں کے مطابق ہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ اس مرحلے پر جاوید لطیف کی ضمانت نہیں بنتی، جاوید لطیف کے کیس میں لگائے گئے سیکشن قابلِ ضمانت نہیں۔
پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے سوال کیا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، کیا اپنی ماں کے متعلق ایسی زبان استعمال کی جا سکتی ہے؟
سرکاری وکیل نے یہ بھی کہا کہ پچھلی سماعت پر بتایا گیا تھا کہ جاوید لطیف کو کورونا ہو گیا ہے، ایجنسیز کی رپورٹ ہے کہ کورونا کا شکار ہونے کے باوجود جاوید لطیف قرنطینہ نہیں ہوئے۔
دورانِ سماعت جاوید لطیف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ مریم نواز کو قتل کرنے کے لیے سازش تیار کی گئی، سازش کے تناظر میں جاوید لطیف نے یہ بات کی۔
جاوید لطیف کے وکیل کا کہنا تھا کہ سی آئی اے لاہور کیس دیکھ رہی ہے، یہاں کسی دہشت گرد کی ضمانت کی درخواست دائر نہیں کی گئی، پولیس کے پاس ان معاملات پر ایف آئی آر درج کرانےکا اختیار ہی نہیں۔












