آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے گورنر کو ’توہین مذہب‘ کا جرم ثابت ہونے پر دو برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جکارتہ کے عیسائی گورنر باسوکی تجھاجا پُرنما کو جب دو برس قید کی سزا سنائی گئی تو عدالت کے باہر موجود لوگوں نے ’اللہ و اکبر‘ کے نعرے لگائے۔

پرنما کو توقع سے زیادہ سخت سزا سنائی گئی ہے کیوں کہ پروسیکیوٹر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں صرف زیر نگرانی رکھے جانے کا حکم دیا جائے۔
سزا سنائے جانے کے وقت پرنما خاصے پرسکون دکھائی دے رہے تھے جبکہ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی کریں گے۔

خیال رہے کہ گورنر پرنما کو گزشتہ برس انتخابی مہم کے دوران اسلام سے متعلق نازیبا جملے کہنے پر گستاخی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا اور ان پر مقدمہ چلایا جارہا تھا۔

پرنما کے خلاف گزشتہ برس بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے جنہوں نے پرنما پر شدید تنقید کی تھی۔

اسلام مخالف بیانات کے بعد سے پرنما کی مقبولیت تیزی سے کم ہوئی اور گزشتہ ماہ ہونے والے گورنر کے انتخابات میں انہیں اپنے مسلمان حریف امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
جکارتہ کی عدالت کے پانچ رکنی پینل نے کئی مہینوں تک سماعت کرنے کے بعد پرنما کو توہین مذہب کا مجرم قرار دیا۔

فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے پینل کے سربراہ ویارسو بوڈی سینٹیارٹو نے کہا کہ ’پرنما پر توہین مذہب کا الزام ثابت ہوگیا ہے لہٰذا انہیں دو برس قید کی سزا سنائی جاتی ہے، انہیں گرفتار کرلیا جائے‘۔

پینل میں شامل ایک اور جج عبدالروسیاد نے کہا کہ پرنما کو سخت سزا دینے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے کیے پر شرمندگی نہیں ہے اور ان کے عمل سے مسلمانوں میں بے چینی پھیلی اور جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

SHARE

LEAVE A REPLY