برطانوی انتظامیہ نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز کے عملے کے سولہ پاسپورٹ واپس کر دیئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ہنوز عملے کے کسی فرد کو نہ حراست میں لیا گیا ہے نہ کوئی مقدمہ قائم کیا گیا ہے
یاد رہے کہ اسلام آباد سے لندن جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے-785 پیر کی دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچی تھی، لینڈنگ پر مسافر طیارے سے اتر گئے تاہم انتظامیہ نے پی آئی اے کے عملے کو حراست میں لے لیا جبکہ طیارے کی بغور تلاشی لی۔ عملے میں شامل 14 ارکان کو برطانوی انتظامیہ نے 2 گھنٹے تک حراست میں رکھا۔
ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا تھا کہ ’انہیں اس بات کی اطلاع نہیں دی گئی کہ عملے کو حراست میں کیوں لیا گیا‘۔
چند میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی انتظامیہ نے پی آئی اے کے عملے سے ’مبینہ سیکیورٹی خدشات‘ پر ’پوچھ گچھ‘ کی۔
خیال رہے کہ قومی ایئرلائن اپنی کارکردگی، غیر اطمینان بخش حفاظتی معیار، اور اسٹاف کے غیر پیشہ وارانہ رویے کی وجہ سے اکثر اوقات تنقید کی زد پر آتی رہتی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں بھی قومی فضائی کمپنی کے ایک سینئر پائلٹ کی جانب سے فلائٹ کا کنٹرول زیر تربیت پائلٹ کے سپرد کرکے ڈھائی گھنٹے تک سوتے رہنے کا انکشاف کیا گیا تھا۔
ماضی میں بھی پی آئی اے عملے کے ارکان منی لانڈرنگ اور ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث پائے جاچکے ہیں۔
جس کے بعد حال ہی میں پی آئی اے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی اسٹاف ممبر اسمگلنگ میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے نوکری سے برخاست کردیا جائے گا۔













