کلبھوشن کیس۔ عالمی عدالت انصاف۔ ایک طائرانہ نظر

0
125

مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور جاسوس ہیں
انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔
انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے
سماعت میں عدالت نے انڈین اور پاکستانی حکام کے دلائل سنے جہاں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن
سشما سوراج نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم نریند مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میں آپ سب کو یقین دلاتی ہوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کلبھوشن جادھو کو بچایا جائے۔‘
انڈیا کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے ’تمام عالمی برادری، کم از کم قانون دان، نے یک زبان ہو کر رد عمل دیا ہے اور وہ آواز انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف موقف کے حق میں ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ کوئی مقدمہ چلا ہی نہیں تھا، ساری کارروائی ڈھکوسلا تھی، اور فوجی مقدمہ کچھ بھی نہیں تھا۔ پاکستان کے موقف کے اس فیصلے کے بعد پڑخچے اڑ گئے ہیں۔ جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے یہ دونوں ریاستوں پر لازم ہے کیونکہ حتمی فیصلہ میں دائرہ کار پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY