ھشتنگری ریلوے پھاٹک تک سفید گاڑی پیچھا کرتی رھی۔ اس سنسان پھاٹک میں ناھموار سڑک اور پٹری پر محمد علی شہید کو رفتار سست کرنا پڑی۔
پھاٹک پر کھڑی ایک گنے کی ریڑھی پر ایک کم عمر مزدور بچہ گنے کا رس پی رھا تھا۔ وہ بتاتا ھے کہ موٹر سائیکل کی رفتار کم ھونے تک گاڑی نےانکو آن لیا اور پیچھے سے انکو ٹکر ماری جس سے موٹر سائیکل گری۔ اسی اثنا میں گاڑی سے دو افراد نکلے اور انہونے قمرعباس کی پشت پر پسٹل سے فائر کرنا شروع کر دئیے۔ قمرعباس تڑپتا رھا’ دکانوں کے شٹر گرنے لگے اور ریڑھی والا ریڑھی سمیت بھاگ نکلا۔ محمد علی گنگ کھڑا تھا۔ وہ یقینا” سوچ رھا ھو گا کہ خالو کو اسپتال کیسے لیجایا جائے۔ وہ موٹر سائیکل اٹھانے کو جھکا ھی تھا کہ ایک قاتل نے اسکی پشت پر بھی فائر کھول دیا۔ چشم دید بچہ کہتا ھے کہ وہ کڑیل جوان ھر فائر پر زمین سے دو دو فٹ اچھل اچھل کے گرتا رھا۔۔۔۔۔۔۔۔ نوجوان اور عمر رسیدہ مقتولین کے دم توڑنے میں یہی فرف تھا ۔

7 مئی 2007ء کا دن اھلیان_ پشاور کیلئے قیامت_ صغری سے کم نہ تھا۔ اس روز سے پشاور سےدو جنازے اٹھے۔ پہلا نوخیز و نوجوان مقتول محمد علی شہید کا……………. اور دوسرا شہید قمرعباس کا.

صبح 11 بجے کوھاٹی گیٹ میں واقع چرچ کے سامنے والی گلی میں آخوندآباد سے ایک جنازہ اٹھا۔ لگتا ھی نہ تھا کہ کسی بچے کا جنازہ ھے۔ لوگوں کا بے پناہ ھجوم اور انکی اشکبار آنکھوٮ میٮ ایک ھی سوال تھا کہ اسکا قصور کیا تھا ؟؟؟
یہ شہید محمد علی آخونزادہ کا جنازہ تھا جو اپنے چچا اور خالو شہید قمرعباس کو اپنے موٹر سائیکل پر ولیمے پہ لیجانے کا قصوروار تھا جسکے والد انور علی آخونزادہ کو بھی چند سال قبل شہید کر دیا گیا تھا۔
یوں شہید محمد علی آخونزادہ نے شہید ابن_ شہید کا لقب پایا۔

جناب آصف علی زرداری صاحب نے اپنے دورہء پشاور میٮ شہید محمد علی کی والدہ محترمه اور انكے اھلخانہ سے ڈیڑھ گھنٹے پر محیط طویل ملاقات میٮ انكى عظيم قربانى پر دلی تعزیت کی.

تم ماہ_شب_چار دھم تھے مرے گھر کے
پھر کیوٮ نہ رھا گھر کا وہ نقشہ کوئى دن اور

جاتے ھوئے کہتے ھو قیامت کو ملینگے
کیا خوب’ قیامت کا ھے گویا کوئى دن اور

سید طاہر عباس

SHARE

LEAVE A REPLY