وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس سال وفاقی منتقلیوں میں 104 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کمی سے ہمارا کیش فلو اور ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بات آج نیشنل کمیونٹی کنونشن جس کا اہتمام ہینڈز نے گڈاپ میں کیاتھا میں شرکت کے فوراً بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس سال وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے حصے سے 104 ارب روپے کم منتقل کیے ہیں، اس سال فنڈز بڑھانے کی بات کی تھی مگر یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وفاق سے 266 بلین روپے ملنے کے بجائے صرف 256 بلین روپے ملے ہیں جو گذشتہ سال سے بھی کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ سال 90 ارب روپے کم دیئے، اب وہ بڑھ کر 104 ارب ہوگئے ہیں اور یہ 7 مہینے کا حساب ہے جبکہ ایک مہینہ اور بڑھ گیا ۔پچھلے سال جنوری 2018 میں ہمیں وفاقی حکومت کی طرف سے 56 بلین ملے تھے اس سال 38 ارب روپے ملے ہیں۔
آپ اس سے اندازہ لگائیں اس طریقے سے کمی آئے گی تو ہم کیسے کام کرسکیں گے۔ میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے آگے بڑھ رہا تھا مگر مجھے روک دیا گیا۔ اب تو سننے میں یہ آرہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اہداف مکمل نہیں کیے ، وہ کہہ رہی ہے کہ صوبائی حکومت جو ٹیکسز جمع کرتی ہے وہ بھی اب ہم لیں۔
گزشتہ 5 سالوں میں سندھ حکومت نے جو ٹیکسز جمع کئےجن میں سیلز ٹیکس ، جنرل سیلز ٹیکس،ایکسائز ، ایگریکلچر اور انکم ٹیکس وغیرہ ہیں ان میں 22 فیصد سالانہ اضافہ ہوا اور وفاقی حکومت کا صرف 8 فیصد اضافہ ہواہے۔ اب وہ ہم سے یہ بھی لینا چاہتے ہیں۔این ایف سی کے حوالے سے آج صبح بھی میں نے اجلاس طلب کیاتھا اورسارے ٹیکس کلیکشنز وفاق کے پاس رہتا تو وہ ہمارا کیا حال کرتے۔
صوبہ بہتر طریقے سے ٹیکس جمع کرسکتا ہے کیونکہ صوبہ صارف کے قریب ہے ۔سیلز ٹیکس مکمل طورپر صوبوں کو دینا چاہیے ۔ صحافیوں کی جہاں تک بات ہے وفاقی حکومت اور اس کے ادارے سامنے آجاتے ہیں ۔حکومتیں اپنا جائز خرچہ کرنے سےبھی گھبرا رہی ہیں ۔ وفاقی حکومت میڈیا ہائوسز کے حوالے سےسوچ بھی نہیں رہی جبکہ سندھ حکومت بہت سنجیدگی کے ساتھ سوچ رہی ہے اور اس پر کام کررہی ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کراچی پریس کلب گئے تھے انہوں نے بھی صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم میڈیا کے واجبات ادا کریں گے لیکن شرط ہوگی کہ وہ صحافیوں کو تنخواہیں ادا کریں ۔
قبل ازیں نیشنل کمیونٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت ہینڈز کے چیف ڈاکٹر غفار بلو کے ساتھ نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور ان کے ادارے کے مالی استحکام کے لیے کام بھی کرے گی۔
مراد علی شاہ نے ہینڈز کی جانب سے صحت کے حوالے سے خدمات کوسراہا، اور کہا کہ سندھ حکومت آپ کے ساتھ صوبے میں صحت کی خدمات کی فراہمی میں شراکت دار ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہماری اس شراکت کے اچھے اور پائیدار نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی موجد ہے اور ان کی حکومت نے روڈ سیکٹر میں پی پی پی موڈ کے تحت کام شروع کیا اور اس میں تعلیم ، صحت اور اب انرجی کے شعبے میں بھی کام کرنے کی خواہاں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہینڈ ز کی جانب سے کمیونٹیز کو موبلائز کرنے اور 2030 ء کے ترقیاتی مقاصد کے حصول کے حوالے سے کمیونٹی لیڈر پیدا کرنے کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بہترین موبلائزرز کے درمیان ایوارڈ بھی تقسیم کیے۔بعدازاں انہوں نے کنونشن میں ہینڈز کے مختلف ضلعی یونٹس کی جانب سے قائم کیے گئے اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے آج صبح 8ویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے صوبائی حکومت کی سفارشات کے حوالےسے ایک اجلاس کی صدارت کی۔انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ جی ایس ٹی جمع کرنے کا اختیار صوبوں کو دے











