صفدرھمدانی۔لندن
سعودی عرب کے شہر ریاض میں اسلام کے نام پر ہونے والی سعودی سپانسر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں دہشت گردی کا سرغنہ قرار دیا اور اسی ضمن میں حذب اللہ،یمن،شام اور عراق کا بھی ذکر کیا
انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام انسانی حقوق سے محروم معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں اور انکی حکومت دہشت گردی برآمد کرتی ہے
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے اس حصے میں سعودی عرب کی زبان بولی ہے اور اس رو میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ ایک دن پہلے ہی ایران میں عام انتخابات ہوئے ہیں اور اعتدال پسند روحانی دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے ہیں
امریکی میڈیا سی این این کے مبصرین نےاس پر حیرت کا اظہار کیا کہ کانفرنس میں سعودی طرز کے سُنی ممالک اور دیگر سنی ممالک کی قیادت موجود تھی جبکہ دنیا بھر سے کسی شیعہ ملک کی نمائیندگی نہیں تھی جس سے پہلے ہی یکطرفہ طرز فکر اور تعصب کی بو آتی ہے
ادھر نومنتخب ایرانی صدر حسن روحانی جنہیں مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے، پر امریکی صدر نے سخت تنقیدکی ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاہدہ کو منسوخ کرنے اور اس کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اتوار کو ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر جو اس وقت سعودی عرب کے دورہ پر ہیں۔
پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے سربراہ اجلاس میں خطہ اور دنیا میں سلامتی کے جامع لائحہ عمل پر زوردے رہے ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ریاض میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے 110 ارب ڈالر کے معاہدے کا مقصد ایرانی اثرورسوخ کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کیلئے اسلحہ کے پیکج سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیجی خطہ کو استحکام حاصل ہوگاتاہم ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنے پڑوسیوں پر واضح کیا ہے کہ سلامتی کو یقینی بنانے کا راستہ غیرملکی طاقتوں پر انحصار نہیں بلکہ جمہوریت ہے۔ انتخابات میں حسن روحانی کی دوبارہ کامیابی پر ایران بھر میں فتح کا جشن جاری ہے۔













