چادر اور چاردیواری۔مقدسہ بانو

0
1340

چادر اور چاردیواری

کاش کہ ہم زمانہ جاہلیت میں ہی مر گئے ہوتے ۔۔تب بیٹیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں اور آج غیرت کے نام پر قتل یا ونی کر دی جاتی ہیں اور ظلم اس پر بچپنے میں ہی کسی ہوس پرست کے ہاتھوں مر جاتی ہیں۔جب کہ انسان سورج کو تسخیر کر رہا ہے اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حقوق کی جنگ لڑنے کے طریقوں پر محاذآرائی کر رہے ہیں ۔اور چند نام نہاد تنظیمیں اپنے پیسے کھرے کرنے کی خاطر ان بےبس اور کمزور عورتوں کی جائز حقوق طلبی کو اپنی ریاکاری سے ایک ایسے دہانے پہ لا رہی پیں جس سے سوائے تبائی اور بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ پاکستان میں چادر اور چاردیواری کا نعرہ لگانے والے مردوں کو کتنا آسان ہے یہ کہنا کہ عورت کا اصل حق چادر اور چار دیواری ہے اور وہ عورت کو مل رہا ہے اور کیا چاہتی ہے ۔۔۔۔جی ہاں ہم اور کیا چلائیں گی ۔۔۔۔ہم آج بھی چادر اور چاردیواری ہی چاہتی ہیں لیکن نہ صرف دو گز کپڑے کی چادر بلکے اس چادر میں لپٹے وہ تمام حقوق جو ہمارا پیدائشی حق ہے اور قرآن و احادیث نے ہر عورت کو دئیے ہیں ۔ہر عورت کا دینی و پیدائشی حق ہے کہ اسے تحفظ،صحت،تعلیم پیار، عزت ،مقام اور تمام شرعی حقوق دیئے جائیں خواہ وہ حق وراثت ہو یا جائز حق مہر۔۔۔۔
عورت کو اینٹ ،مٹی گارے اور سیمنٹ کی چاردیواری سے سروکار نہیں ۔باخدا اگر حقوق کی ادائیگی ہو رہی ہو تو بیٹی ہو یا بیوی وہ اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ جھونپڑی میں بھی سکوں کی نیند سو لے گی کیوں کہ اسکو علم ہو گا کہ اینٹ ،پتھر ،سیمنٹ اور سریہ اسکو کچھ نہیں دے سکتے جب کے اسکی چاردیواری اسکا باپ،بھائی ،شوہر اور بیٹا ہیں۔
مقدسہ بانو

SHARE

LEAVE A REPLY