کبھی کبھی… انسان مشکلات کے دور سے دکھائی دینے والے معمولی… چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کو برے بڑے پہاڑ سمجھ کر گبھرانے لگتا ہے…. اور سوچتا ہے کے شاید وہ ان چٹانوں کو عبور نہیں کر پائے گا…
لیکن… درحقیقت… انسان کے یقین، توکل،قوت ارادی، ہمت اور حوصلہ وہ زینہ ہے کے جس پہ سوار ہو کر وہ ان ٹیلوں سے خوفزدہ نہین ہوتا بلکہ ان کو عبور کرتے کرتے… بڑی بری چٹانوں سے راہیں نکالنے… بند گلیوں سے نکلنے… اور بند راستوں کو کھولنے کے اسباب پیدا کر لیتا ہے….
بس اسکی منصوبہ بندی، دور اندیشی حقیقت کو درک کرنے اور بنا خوف، ڈر، مصلحت پسندی کے ایک آزاد فکر…
انسان کی مانند اپنے اھداف تک پہنچنے کی حقیقی جہد کرتا ہے….
سچے مسافر تھکتے نہیں…. اور حقیقی مہاجر ٹھرتے نہیں کے جب تک منزل تک پہنچ نہ جاییں…
انکی تھکاوٹ، زخم، درد، ازیت، کرب وہ ہمراہی بن جاتے ہیں کہ جن سے ہنسنے، بولنے مھود گفتگو رہنے سے وہ ہمسفر بن جاتے ہیں… آنسو وہ ہمدرد بن جاتے ہیں کے جو دل کی ازیت کو بخارات کیطرح، پانی سے اٹھتی بھاپ کیطرح وجود سے باہر نکل اتی ہے…. جس سے وہ زرخیزی جنم لیتی ہے کے بارش، بہار، ہوائیں اور طوفان سب اس بہادر و شجاع کے ہمراہی… اسکے درد مند اسکے دوست بن جاتے ہیں اور جب مشکلات ہی دوست بن جاتی ہیں تو پھر….
مشکلات اور بڑے امتحان انسان کے لیے کسی معمولی سی چیز کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں…
شجاع اور بہادر کی نگاہیں نہ تو تھکتی ہیں نہ وجود پستی اور تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں… تھک بھی جاییں تو اس تھکن سے ہمت استوار کرتے ہیں….
جو زندگی کے ہر زخم، درد، مشکل، امتحان کو خوشی سے… اور آگے برھکر اختیار کرتے ہین… درحقیقت وہی زندگی کو جینے کے اسل لطف اور زایقے سے آشنائی رکھتے ہیں…
اور ایک جاننے والے اور نہ جاننے والے کی قوت فکر، عمل، احساس، نگاہ، ہمت، ارادے اخلاص میں نمایاں فرق ہوتا یے…
مشکل پسندی ہی انسان کو اسکے خواب، اھداف، مقاصد تک پہنچنے لایق بناتی ہے…. ارام پسندی، سہل پسندی، کاہلی اور لاپرواہی انسان کو بے ھدف، بے مبزل و ناکاری بلکہ خواہشات کا علام بنا دیتی ہے جہاں اپنا پیٹ، لباس، جسم، زایقے اہم رہ جاتے ہیں اور انسان کے زوال کی سب سے بڑی وجوہات میں سے یہ بھی بہت بری وجہ ہے…
کے نہ تو وہ مستقبل کی درست فکر اور سمجھ کیساتھ منصوبہ بندی کرتا یے…
کے وہ جانتا، سمجھتا نہیں کے درحقیقت مستقبل ہے کیا….
ہم مستقبل کسے سمجھتے ہیں…؟
اور جو سمجھتے ہیں کیا وہ ہی مستقبل ہے…؟
اور جو تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیا واقعی وہ چاہتے تھے وہی ھدف تھا…؟
ہمارا زندگی کا ھدف… یہ طے کرتا ہے کے مستقبل کیا چاہتے ہیں اور جو مستقبل چاہتے ہیں اسکی منصوبہ بندی…
اسکے متعلق کیسے خطرات ہیں…
کیا توقعات اور وسائل ہیں…
کونسے دشمن ہیں اور کیسے کیسے حربے استعمال میں لا ریے ہیں…
اور کیا منصوبہ ساز انکی منصوبہ بندی سے محافظت کے لیے کچھ سوچ کے رکھ رہے ہیں یا نہیں…
اجتماعی اور انفرادی… اھداف کی درست وقت پہ درست منصوبہ بندی اور اسکے تحت کوشش ہی انسانی معاشروں کو کسی مقام تک لا سکتی ہے مگر آج کے جوانوں کا المیہ یہ ہے کے ان کے درد بہت غریب ہیں….
نوجوان لڑکے لڑکی کی سوچ… مرد اور عورت… شہوت اور لغو میں ڈوبی ہوئ ہے یا کم سے کم بھی زیر اثر ہے کیونکہ اس سب کو ابھارنے کے تو تمام وسائل با اسانی موجود ہیں پر پاک معاشرے کی طہارت کو زندہ رکھنے کے واسطے سوائے عورت کو گھر کے اندر بٹھانے کے کوئی حل موجود نہیں….
درست تعلیم، درست فکر معاشرے کی تعمیر میں فرد کے کردار کو کبھی نہ تو سوچا گیا ہے نہ پڑھا… بچے کے پیدا ہونے سے جوانی تک بس نوکری کے لیے تعلیم اور نوکری کے بعد شادی گھر اور بچے ہی ھدف زندگی ہیں…. جبکہ
یہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت کی طرح ایک ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں جسکی محافظت اور اہمییت کی اپنی جگہ ہے پر بسکیا یہی اھداف زندگی ہوتے ہیں….
کے ڈگری لیکر یا بنا پڑھے لکھے ملک سے بایر جا کر نوکری کرنے کا خواب…
من پسند سے شادی کا خواب…
بڑے گھر اور گاڑی یا بزنس کا خواب….
کیا اسکے آگے بھی کچھ ہے….؟ یا اس سے پہلے بھی کچھ ہے…؟
اگر ہے تو کیا ہے…؟
نہیں ہے تو کیوں نہیں….؟ یہ سوچنا کسکا کام ہے….؟
یہ آخر کسکی زمہ داری ہے…؟
تھوڑا رک کے سوچیے کہ یہ زندگی شہوتوں، دولت، اختیارات اور خواہشات کی پرستش کے علاوہ بھی کچھ اور ہے کے نہیں ہے….؟
فائزہ عباس













