وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دس سال میں پہلی بار معاشی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے بڑھ گئی ، جو پانچ اعشاریہ تین فیصد ہوگئی ہے۔ ملکی معیشت 3 سو ارب ڈالرز سے تجاوز کرگئی ، توانائی کی پیداوار بجلی اور گیس کی ترسیل میں اضافہ ہوا ۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پری بجٹ پریس کانفرنس میں اقتصادی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی معیشت 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائرسولہ اعشاریہ پندرہ ارب ڈالرہو گئے ہیں،جولائی سے اپریل تک مہنگائی کی شرح تسلی بخش رہی ، اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 19عشاریہ 53فیصدہے،زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 3اعشاریہ 46فیصدر ہی، صنعتی شعبے کی ترقی 5فیصدرہی ،خدمات کے شعبے نے 5اعشاریہ 98فیصد کی شرح سے ترقی کی۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال کیلئے ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کرنے کا امکان ہے،توانائی کی پیداوار میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے،بجلی اور گیس کی ترسیل میںتین اعشاریہ چارفیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے زرعی شعبے کے حوالے سےبتایاکہ زرعی شعبے پر حکومت کی توجہ اگلے سال بھی مرکوز رہے گی ،زرعی ترقی کی شرح میں وزیراعظم کے کسان پیکیج نے اہم کردار ادا کیا، یوریا کھاد کی قیمت کم کی ،فی بوری قیمت 1400 روپے پر لے گئے اور ڈی اے پی کی فی بوری قیمت 2500روپےتک لے گئے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ برآمدات 21 اعشاریہ 76ارب ڈالر رہیں گی، جاری کھاتوں کا خسارہ سوا7ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے، دس ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1ارب 73کروڑ ڈالر رہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سال کے آخر تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2ارب 58کروڑڈالر کا تخمینہ ہے ،فی کس سالانہ آمدنی 1629ڈالر رہی اورپاکستان ایشیاکی بہترین اسٹاک مارکیٹ میں شامل رہا

SHARE

LEAVE A REPLY