وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی سے متعلق میڈیا سے گفتگو کی۔

انھوں نے بتایا کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو نیب گرفتاری نہ کرے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ نیب قانون کا اطلاق 16 نومبر 1999 سے ہونا چاہیے، اگر کسی نے 5 سال کے اندر جرم کیا ہے تو اسی پر کیس ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قوانین کو پس پشت ڈال رہی ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین ایوان میں لائے گی، اس کے 3 بلز حکومت نے 6 اگست سے پہلے بنانے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یہ بل نہیں بنائے گا تو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکلے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY