اسلام آباد کے شہری عتیق کی امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے موت کے واقعے کی مکمل رپورٹ وزارت داخلہ کو موصول ہو گئی۔
ٹریفک پولیس سارجنٹ کے مطابق گاڑی نے سگنل کی خلاف ورزی کی، وزارت داخلہ نے تھانہ کوہسار پولیس کے ایس ایچ او خالد اعوان پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا صرف شناختی کارڈ دیکھ کر ایس ایچ او نے امریکی سفارتکار کو کیوں جانے دیا؟
سفارتکار کیوں چھوڑا؟ وزارت داخلہ ایس ایچ او پر برہم
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کو پیش کی گئی رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتکار کا فوری میڈیکل کرانا چاہئے تھا، میڈیکل کرانے سے اس بات کا تعین ہوجاتا کہ ملزم ہوش میں تھا یا نہیں، ایس ایچ او نے بھی ایک نہ سنی اور سفارتکار کے استثنیٰ کا جواز پیش کیا۔
وزارت داخلہ نے ایس ایچ او تھانہ کوہسار خالد اعوان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سفارتکار کوکس کے کہنے پر چھوڑا؟
وزارت داخلہ نے امریکی سفارتکار کو چھوڑنے کے معاملہ پر متعلقہ ایس ایچ او سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او کو اختیار نہیں کہ وہ صرف کارڈ دیکھ کر کسی سفارتکار کو جانے دے، پولیس کو وزارت خارجہ سے ہدایات حاصل کرنے کے بعد ہی ملزم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تھا ۔












