چھبیس مئی 1824ء امریکا نے برازیل کی خود مختاری کو تسلیم کیا

0
206

برازیل کے آبائی لوگ شکار اور کھیتی‌باڑی کرکے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔‏ جب پُرتگالی یہاں آئے تو اُنہوں نے رومن کیتھولک مذہب کو متعارف کرایا۔‏ پھر وقت گزرنے کے ساتھ‌ساتھ یہاں پر بہت سے گِرجاگھر بنائے گئے۔‏ اکثر اِن کے اندر کی دیواریں لکڑی کے ایسے مجسّموں سے سجی ہوئی ہیں جن پر سونے کا پتر چڑھایا گیا ہے۔‏

سولہویں سے اُنیسویں صدی عیسوی تک تقریباً 40 لاکھ افریقیوں کو غلام بنا کر برازیل لایا گیا تاکہ اُن سے کھیتی‌باڑی کرائی جائے۔‏ افریقی غلام اپنے ساتھ اپنےاپنے قبیلوں کی مذہبی رسمیں بھی لائے۔‏ اور آہستہآہستہ اِن رسموں نے مختلف چھوٹے موٹے مذاہب کی شکل اِختیار کرلی۔‏ یہاں کی موسیقی،‏ رقص اور کھانوں پر بھی افریقی ثقافت کا اثر صاف نظر آتا ہے۔‏

یہاں کے ایک روایتی کھانے کا نام ”‏فےژوآدا“‏ ہے جو اصل میں ایک پُرتگالی کھانا ہے۔‏ اِسے طرح‌طرح کے گوشت اور کالے لوبیے سے تیار کِیا جاتا ہے اور چاولوں اور کرمکلہ (‏جو کہ بند گوبھی کی ایک قسم ہے)‏ کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔‏ اُنیسویں اور بیسویں صدی میں یورپ (‏خاص طور پر جرمنی،‏ اِٹلی،‏ پولینڈ اور سپین)‏،‏ جاپان اور کئی اَور ملکوں کے لوگ یہاں آ کر آباد ہو گئے۔‏

برازیل میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار یہوواہ کے گواہ ہیں اور یہاں پر اِن کی 11 ہزار سے زیادہ کلیسیائیں ہیں۔‏ وہ 8 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پاک کلام سے تعلیم دے رہے ہیں۔‏ یہاں پر یہوواہ کے گواہوں کی 31 تعمیراتی ٹیمیں ہیں جو مقامی یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ مل کر عبادتگاہیں بناتی ہیں۔‏ یہ ٹیمیں ہر سال 250 سے 300 عبادتگاہیں تعمیر کرتی اور مرمت کرتی ہیں۔‏ مارچ 2000ء سے اب تک 3647 تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کِیا جا چُکا ہے۔‏

SHARE

LEAVE A REPLY