ترکی کے وزیر انصاف باقر بُزداگ نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ایسے چار ہزار ججوں اور سرکاری وکلاء کو فارغ کر دیا گیا ہے، جن پر گزشتہ برس کی بغاوت کے بعد سے خفیہ اداروں کو کسی قسم کا شک و شبہ رہا ہے۔

بُزداگ کے مطابق عدلیہ اب ایسے عناصر سے صاف کر دی گئی ہے، جن کا تعلق امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن سے ہے۔

انقرہ حکومت گزشتہ برس وسطِ جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار گولن کو ٹھہراتی ہے۔ اِس بغاوت کے بعد سے اب تک عدلیہ، سول سروس اور پرائیویٹ سیکٹر میں ایک لاکھ افراد کو ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY