چین نے ریاست ارونا چل پردیش میں ایک پل کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے معاملے پر ہندوستان کو ‘محتاط’ رہنے اور ‘تحمل’ کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔

چین کا یہ مشورہ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ارونا چل پردیش کو پڑوسی ریاست آسام سے جوڑنے والے ایک پل کے افتتاح کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ چین ریاست ارونا چل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ تصور کرتا ہے، جسے ہندوستان کئی مرتبہ یہ کہہ کر مسترد کرچکا ہے کہ یہ سرحدی ریاست ہندوستان کا ایک نہایت اہم حصہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا، ‘ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت چین کے ساتھ سرحدی معاملات کا تعین ہونے تک محتاط رویئے اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرے گا، ساتھ ہی اسے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے کو بھی یقینی بنانا چاہیئے’۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دریائے برہم پترا کے کنارے ایک طویل ترین پل کا افتتاح کیا تھا، جو ریاست آسام کو ارونا چل پردیش سے ملائے گا۔

9.2 کلومیٹر ڈھولا سادیا پل دونوں ریاستوں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کردے گا، جس کے ذریعے ٹینکوں اور ہندوستانی فوجیوں کی نقل و حرکت میں آسانی ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY