مساجد انتظامیہ کی مانچسٹر حملہ آور کی نماز جنازہ سے معذرت

0
229

برطانوی شہر مانچسٹر کی مساجد اور اسلامی مراکز نے گذشتہ ہفتے ایک محفل موسیقی میں خود کش بم حملہ کرنے والے سلمان العبیدی کی نماز جنازہ پڑھانے اور اسے مانچسٹر میں دفن کرنے سے معذرت کی ہے۔ دوسری طرف مانچسٹر بلدیہ نے بھی خود کش بمبار کو اس شہر میں دفن کرنے سے روکنے کے لیے تمام اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیائی نژاد سلمان العبیدی نامی ایک شدت پسند نے گذشتہ ہفتے مانچسٹر میں ایک موسیقی کنسرٹ میں گھس کر خود کش حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 22 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد مانچسٹر کے مسلمانوں میں بھی سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جولائی 2005ء کے بعد یہ برطانیہ میں سب سے بڑی خونی واردات قرار دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی معلومات سے پتا چلا ہے کہ شمالی انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کی مساجد اور اسلامی مراکز نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ العبیدی کی نماز جنازہ اور اس کی تدفین کا اہتمام نہیں کرسکتے۔

اخبار ‘مانچسٹر ایوننگ نیوز‘ نے مانچسٹر بلدیہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ بلدیہ خود کش بمبار کی مانچسٹر میں تدفین روکنے کے لیے تمام اختیارات کا استعمال کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ سلمان العبیدی کی نماز جنازہ اور اس کی شہر میں تدفین کی کسی صورت میں اجازت نہیں دے گی۔

اخباری معلومات کے مطابق خود کش بمبار کی باقیات شہر سے باہر محفوظ کی گئی ہیں تاہم ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ العبیدی کی باقیات کو ایک لمحے کے لیے بھی محفوظ نہیں کیا گیا۔

اخبار’ڈیلی میل‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ خود بمبارکی لاش اس کے ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی۔ اس کے والدین رمضان اور سامیہ اور چھوٹا بھائی ھاشم سب لیبیا پولیس کی حراست میں ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ العبید کا چھوٹا بھائی 20 سالہ ہاشم کا بھی داعش سے تعلق ہے اور وہ دارالحکومت طرابلس میں ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ البعیدی کا بڑا بھائی اسماعیل برطانوی پولیس کی حراست میں لے جس سے تفتیش جاری ہے۔ تاہم اس تفتیش کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY