سری لنکا میں وبا کے باعث مچھلی کی فروخت متاثر

0
1015

Published on: 19 Nov 2020

سری لنکا میں کرونا وائرس کے سبب مچھلی کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس سے ماہی گیری کی صنعت کو خسارے کا سامنا ہے۔

ماہی گیری کی صنعت کو فروغ دینے اور لوگوں کو بلا خوف و خطر مچھلی کھانے کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سابق وزیر دلیپ ویڈار رچیچی نے دارالحکومت کولمبو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کچھ مچھلی نگل لی۔

منگل کو پریس کانفرنس میں سابق وزیر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث آنے والی مندی کو دور کرنے کی غرض سے عوام مچھلی کی فروخت کی حوصلہ افزائی کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ افراد کو مچھلی کی فروخت میں دقت کا سامنا ہے۔ لوگوں نے مچھلی کھانا چھوڑ دی ہے لیکن مچھلی کھانے میں کوئی نقصان نہیں۔

اس کے بعد انہوں نے سب کے سامنے مچھلی منہ میں ڈالی اور نگل لی۔

پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مچھلی میں آپ کو دکھانے کے لیے لایا ہوں۔ میری عوام سے اپیل ہے کہ مچھلی کھائیں۔ اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ مچھلی کھانے سے کرونا وائرس نہیں پھیلتا۔

دلیپ ویڈار کا تعلق سری لنکا کی حزبِ اختلاف کی جماعت سے ہے۔ وہ گزشتہ سال تک ماہی گیری کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

کولمبو کی مرکزی ہول سیل مارکیٹ میں وبائی مرض پھیلنے سے بہت سے لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جو بعد میں ملک بھر میں پھیلتا چلا گیا جس کے بعد فش مارکٹ کو بند کرا دیا گیا تھا۔

مارکیٹ بند ہونے کے نتیجے میں کئی ٹن مچھلی فروخت ہونے سے رہ گئی اور قیمتیں گرتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ لوگوں نے مچھلی خریدنا اور کھانا ترک کر دیا۔ حالاںکہ مچھلی سری لنکا کی اہم ترین غذا شمار ہوتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY