کارڈینل رابرٹ پری ووسٹ کیتھولک مسیحیوں کے نئے پوپ منتخب ۔ ثمینہ گل۔مانٹریال

0
1127

کارڈینل رابرٹ پری ووسٹ کو کیتھولک مسیحیوں کا نیا پوپ منتخب کرلیا گیا۔

نئے پوپ کا انتخاب کم از کم 4 مرتبہ کی ووٹنگ کے بعد ہوا ہے، رابرٹ پری ووٹ تاریخ میں پہلے امریکی پوپ ہیں اور وہ پوپ لیو چہاردہم کہلائیں گے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق رابرٹ پری ووسٹ 2023 میں کارڈینل بنے، اس سے قبل وہ 2015 سے 2023 تک پیرو میں بطور بشپ کام کرتے رہے۔

گزشتہ ماہ پوپ فرانس کے بعد پوپ بننے والے 69 سالہ رابرٹ پری ووسٹ کیتھولک مسیحیوں کے 267ویں پوپ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رابرٹ پری ووسٹ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جان کر فخر ہوا کہ وہ پہلے امریکی پوپ ہیں، ٹرمپ نے پوپ لیو سے ملنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

…………………………………………………………..

پوپ فرانسس کی آخری رسومات

ویٹی کن: پوپ فرانسس کی آخری رسومات آج ادا کی جا رہی ہیں

مسیحی دنیا کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی آخری رسومات آج ویٹی کن سٹی میں ادا کیجا رہی ہیں، جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ حکام اور بین المذاہب وفود کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پوپ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے روم پہنچ گئے ہیں، برطانیہ کے وزیر اعظم، فرانس کے صدر اور دیگر عالمی رہنما بھی ویٹی کن پہنچ چکے ہیں، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ویٹی کن کو انتہائی حساس زون قرار دیا گیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کے سخت ناقد پوپ فرانسس کی آخری رسومات میں نیتن یاہو حکومت اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیجے گی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے کسی رہنما کو آنجہانی پوپ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے نہیں بھیجے گی۔

اسرائیل کیخلاف بولنے والے پوپ کی آخری رسومات میں نیتن یاہو کا نمائندہ شریک نہیں ہوگا
غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے وزرا پوپ پر سخت تنقید کرتے تھے، کیوں کہ فرانسس شہریوں کے قتل اور امداد روکنے کے بارے میں آواز اٹھا رہے تھے۔

فرانسس غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے ایک کھلے عام ناقد تھے اور جنگ بندی کا باقاعدہ مطالبہ کرتے تھے، ماہر سیاسیات اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سابق مشیر زاویر ابو عید کا کہنا ہے کہ فرانسس کی موت سے فلسطینیوں نے ایک عزیز دوست کھو دیا ہے جسے وہ اپنے حق خودارادیت کا ایک کٹر محافظ قرار دیتے ہیں۔

………………………………………

ویٹیکن کی جانب سے 88 سالہ پوپ فرانسس کی وفات کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے صدور، وزرائے اعظم اور عام شہریوں کی طرف سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ کیتھولک چرچ کے 266 ویں پوپ اور  یہ عہدہ سنبھالنے والے پہلے لاطینی امریکی کلیسائی رہنما تھے۔ پوپ فرانسس طویل علالت کے بعد اور سانس کی بیماری کے باعث پیر 21 اپریل کی صبح انتقال کر گئے تھے۔

‘پناہ گزینوں کے وکیل‘

فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”بیونس آئرس سے روم تک، پوپ فرانسس نے چاہا کہ چرچ غریبوں کے لیے خوشی اور امید کا ذریعہ بنے۔ وہ چاہتے تھے کہ انسانوں کو آپس میں اور فطرت کے ساتھ جوڑا جائے۔‘‘

پیرس کی میئر این ہڈالگو نے اعلان کیا کہ پوپ کی یاد میں آئفل ٹاور کی روشنیاں پیر کی رات بند رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پوپ فرانسس نے ”ماحولیات کو روحانی معاملات کے مرکز میں رکھا اور پناہ گزینوں کے استقبال کی وکالت کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی دارالحکومت میں ایک مقام پوپ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

برطانیہ کے بادشاہ چارلس، جو چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا، ”میں پوپ فرانسس کی وفات سے انتہائی رنجیدہ ہوں۔‘‘ انہوں نے کیتھولک چرچ کے لیے پوپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا، ” وہ اس چرچ کے لیے اپنی خدمات پوری لگن سے سرانجام دیتے رہے۔ میری گہری تعزیت اور گہری ہمدردی اس چرچ کے ساتھ ہے، جس کی انہوں نے اس قدر عزم سے خدمت کی۔‘‘ بادشاہ چارلس اور ملکہ کامیلا نے رواں ماہ ہی ویٹیکن میں پوپ سے ملاقات کی تھی۔

پوپ فرانسس قاہرہ میں الاظہر جامع کے امام سے ملاقات کرتے ہوئے

امریکی نائب صدر کا بیان

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا، ”میرا دل ان لاکھوں مسیحیوں کے ساتھ ہے، جو ان سے محبت کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا، ”میں کل ان سے مل کر خوش تھا، حالانکہ وہ واضح طور پر شدید بیمار تھے۔‘‘ وینس نے بھارت روانہ ہونے سے قبل ایسٹر کے موقع پر پوپ سے ملاقات کی تھی۔

پوپ کی وفات ‘گہری اداسی میں ڈبو دینے والا لمحہ‘

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا، ”میں ان کی دوستی، ان کے مشوروں اور ان کی تعلیمات سے مستفید ہونے کا اعزاز رکھتی ہوں، جو کبھی مجھے ناکام نہیں ہونے دیتے تھے، یہاں تک کہ آزمائش اور تکلیف کے وقت میں بھی۔‘‘ انہوں نے پوپ کی وفات کو ”گہری اداسی میں ڈبو دینے والا لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ”ہم ایک عظیم انسان اور عظیم راعی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔‘‘ میلونی ان چند حکومتی شخصیات میں شامل تھیں، جنہوں نے پوپ کے ہسپتال میں حالیہ قیام کے دوران ان سے ملاقات کی تھی۔

‘محبت، جو کیتھولک چرچ سے بھی آگے تک پھیلی ہوئی تھی‘

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین نے لکھا، ”انہوں نے اپنی عاجزی اور پسماندہ افراد کے لیے ایسی خالص محبت سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا، جو کیتھولک چرچ سے بھی کہیں آگے تک پھیلی ہوئی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”میری دعائیں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں، جو اس گہرے نقصان کو محسوس کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس خیال سے کچھ تسلی پائیں گے کہ پوپ فرانسس کی میراث ہمیشہ زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد دنیا کی طرف ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔‘‘

پوپ فرانسس لوگوں کے درمیان

یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے ایکس پر لکھا، ”میں پوپ فرانسس کی وفات سے گہری اداسی میں ہوں۔ وہ اتحاد، انصاف اور انسانی وقار کی عالمی آواز تھے۔ ان کی حکمت اور عاجزی نے انسانی زندگیوں کو عقیدے سے بالاتر ہو کر چھوا۔‘‘

‘ پوپ کی غریبوں، مہاجرین اور پسماندہ افراد کے لیے خصوصی توجہ‘

جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک تعزیتی خط میں کہا، ”پوپ فرانسس کے ساتھ دنیا نے امید کی ایک روشن کرن، انسانیت کے ایک مستند وکیل، اور ایک پکے مسیحی کو کھو دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”ان کی سادگی، ان کی بے ساختگی اور ان کا مزاح، لیکن سب سے بڑھ کر ان کے واضح طور پر گہرے ایمان نے پوری دنیا کے لوگوں کو چھوا اور انہیں سہارا، طاقت اور سمت فراہم کیے۔‘‘

انہوں نے پوپ کی غریبوں، مہاجرین اور پسماندہ افراد کے لیے خصوصی توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”بہت سے لوگ، جو خود کو بھلا دیا گیا سمجھتے تھے، پوپ فرانسس نے انہیں سنا، دیکھا اور سمجھا۔‘‘ جرمن صدر نے مزید کہا کہ جرمنی کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحی یکجہتی کے ساتھ ان کی وفات پر سوگوار ہیں۔

جرمن چانسلر اولاف شولس نے ایکس پر لکھا، ”پوپ فرانسس کے ساتھ کیتھولک چرچ اور دنیا نے کمزوروں کے ایک وکیل، ایک مصالحت کار اور ایک ہمدرد شخص کو کھو دیا ہے۔‘‘

پوپ اور فلسطینی عوام

فلسطینی صدر محمود عباس نے  کہا، ”آج ہم نے فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقوق کے ایک وفادار دوست کو کھو دیا۔‘‘ ان کے مطابق، ”پوپ فرانسس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور ویٹیکن میں فلسطینی پرچم بلند کرنے کی اجازت دی۔‘‘

پوپ فرانسس یونان میں مہاجرین سے ملاقات کرتے ہوئے

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ایکس پر لکھا، ”میں واقعی امید کرتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور یرغمالیوں کی محفوظ واپسی کے لیے ان کی دعائیں جلد پوری ہوں گی۔‘‘ پوپ نے اسرائیل کی جنگی کارروائیوں پر تنقید کی تھی اور غزہ میں مبینہ نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جنہیں اسرائیل نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

‘بے آوازوں کی آواز‘

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک بیان میں کہا، ”پوپ فرانسس نے ایک عظیم انسانی ورثہ چھوڑا، جو انسانیت کے ضمیر میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔‘‘ انہوں نے پوپ کو ”ایک غیر معمولی عالمی شخصیت قرار دیا، جنہوں نے اپنی زندگی امن اور انصاف کی اقدار کی خدمت کے لیے وقف کی۔‘‘

ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ایکس پر لکھا، ”پوپ فرانسس نے دنیا کے سب سے کمزور لوگوں پر توجہ دی۔‘‘ پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے پوپ کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئےکہا، ”پوپ فرانسس ایک مہربان، گرم جوش اور ہمدرد شخص تھے۔‘‘ آئرش وزیر خارجہ سائمن ہیرس نے کہا، ”ان کی طرف سے غریبوں کی وکالت، بہتر بین المذاہبی تعلقات اور ماحولیاتی تحفظ پر توجہ نے انہیں امید کی کرن اور بے آوازوں کی آواز بنایا۔‘‘

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کریملن کے ذریعے تعزیت کا پیغام بھیجا، جبکہ افریقی یونین کی قیادت نے پوپ کو ”اخلاقیات کی عظیم آواز‘‘ قرار دیا۔

پوپ کی وفات کا سنتے ہی ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز اسکوائر پر بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا، جبکہ پوپ کی یاد میں دنیا بھر کے گرجا گھروں میں پھول رکھے جا رہے ہیں۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

پوپ فرانسس کی آخری رسومات ہفتے کے روز ادا ہونگی جبکہ کل بدھ کے روز میت عام دیدار کے لیئے رکھ دی جائے گی

ویٹیکن نے منگل کی صبح پوپ فرانسس کی پہلی تصاویر جاری کردی ہیں، تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پوپ فرانسس کی میت تابوت میں موجود ہیں۔ سانتا مارٹا کے چرچ میں دو سوئس گارڈز ارد گرد موجود ہیں۔ اسی چرچ میں پوپ فرانسس موجود تھے۔ پوپ فرانسس فالج کے حملے کے بعد پیر کو 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی میت کی تصاویرمیں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں سرخ چوغہ پہنایا گیا، ان کے سر پر ایک سفید ایپسکوپل میٹرہے اور مالا پکڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

کیتھولک چرچ کے سربراہ کو عام طور پر موت کے 4 سے 6 دن بعد دفن کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مرنے والے پوپ کو سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں دفن کرنے کا رواج ہے لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ پوپ فرانسس کو ویٹیکن کے باہر سانتا ماریا میگیور کے باسیلیکا میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ یہ مقام ان کے پسندیدہ مقامات میں سے ایک تھا اور انہوں نے اسے ہی اپنی آخری آرام گاہ بنانے کی وصیت کی تھی۔ پوپ فرانسس کے جنازے میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور حکومت کی شرکت متوقع ہے۔

ویٹیکن کے اندر سانتا مارٹا کی معمولی خانقاہ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ان کی مختصر ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہی پوپ فرانسس کا انتقال ایسٹر کے موقع پر پیر کی صبح 7:30 بجے ہوگیا تھا۔ یہاں پر وہ پیٹر کی کرسی پر فائز ہونے کے بعد سے مقیم تھے۔ پیر کو پوپ فرانسس کی موت کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ویٹیکن نے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔

ویٹیکن نے ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جس پر ویٹیکن کی صحت اور حفظان صحت کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریا آرکنجیلی نے دستخط کیے تھے۔ اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پوپ کی موت فالج کے دورے سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ کومہ میں چلے گئے اوران کے دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ سرٹیفکیٹ نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ موت کی تصدیق الیکٹرو کارڈیوگرام ریکارڈنگ سے ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اعلان کیا جاتا ہے کہ عزت مآب پوپ فرانسس (جورج ماریو برگوگلیو) جو 17 دسمبر 1936 کو بیونس آئرس (ارجنٹینا) میں پیدا ہوئے اور جو ویٹیکن سٹی اسٹیٹ میں رہائش پذیر اور ویٹیکن کے شہری تھے 21 اپریل کو صبح 7:35 بجے سانٹا 20 میں اپنے اپارٹمنٹ میں انتقال کر گئے ہیں۔

دستاویز میں ان صحت کے مسائل کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ان بیماریوں میں پوپ کو دو طرفہ پولی مائکروبیل نمونیا تھا ایک سے زیادہ برونکائیکٹاسس تھے۔ ہائی بلڈ پریشر اور ٹائپ 2 ذیابیطس تھا۔ اس کی وجہ سے انہیں سانس کی شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پوپ کی تدفین سادہ رسومات کے ساتھ متوقع ہیں۔ اگر چہ اس دوران بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔ ویٹیکن کے نومبر 2017 کے اعلان میں سادہ رسومات کا کہا گیا تھا اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔ خاص طور پر صنوبر، سیسہ اور بلوط سے بنے تین گھونسلے والے تابوتوں کی بجائے لکڑی اور زنک سے بنے ایک سادہ تابوت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ویٹیکن کا آئین پوپ کے لیے 9 دن کے سرکاری سوگ کی مدت مقرر کرتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY