القاعدہ کے کمانڈر، خطاب القہتانی اور ابو عمر ترکستانی ہلاک

0
989

شامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترک سرحد کے قریب ہونے والے ایک فضائی حملے میں کم از کم تین شدت پسند رہنما ہلاک ہوئے، جِن میں ایک شدت پسند دھڑے کا کمانڈر شامل ہے، جو مغربی چین سے تعلق رکھنے والے یغور نسل کے افراد پر مشتمل ہے۔

یہ بات شام کے انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم، ’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے کہی ہے۔ یہ ادارہ شام کی طویل خانہ جنگی پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

ایک رپورٹ میں، ادارے نے بتایا ہے کہ شمالی صوبہٴ ادلب میں ہونے والے حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جو سرحد کے قریب سرمد کے قصبے کی جانب جانے والی سڑک پر واقع ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں آیا حملہ کس نے کیا۔ تاہم، آبزرویٹری کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قوی امکان اِس بات کا ہے کہ یہ حملہ امریکی قیادت والے فوجی اتحاد نے کیا، جو علاقے میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے۔

عرب ملکوں کے خبر رساں ادارے، ’المدثر‘ نے القاعدہ سے منسلک ’فتح الشام‘ کے شدت پسندوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ امریکی ڈرون سے کیا گیا۔ تاہم، فوری طور پر، پینٹاگان نے اِس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا، جس دعوے کی دیگر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی۔

سرگرم کارکنوں کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع کی گئی ایک وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ حملے کے مقام پر امدادی کارکن تباہ شدہ کار سے لاش نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جب سنہ 2014میں شمالی شام میں داعش کے انتہا پسندوں نے خلافت کا اعلان کیا تھا، اب تک امریکی قیادت والے اتحاد کے لڑاکا طیاروں اور ڈرون اب تک بہت سارے چوٹی کے جہادی کمانڈروں کو ہلاک کر چکے ہیں، جس سے قبل اُس نے شام کے شمال اور عراق کے ایک وسیع رقبے پر قبضہ جما لیا تھا۔

آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اتوار کے روز کی گئی کارروائی میں القاعدہ کے کمانڈر، خطاب القہتانی اور ابو عمر ترکستانی ہلاک ہوئے، جن کی اسلام نواز ’یغور فورس‘ شام کے انتہاپسند گروپ میں شامل ہوئی ہے، جس کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں میں حصہ لینا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY