حسین نواز کی چوتھی مرتبہ پاناما جے آئی ٹی کے سامنے پیشی

0
190

وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز پاناما پیپر کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے چوتھی مرتبہ پیش ہوگئے۔

اس موقع پر کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور حسین نواز نے ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دیا۔

ذرائع کے مطابق حسین نواز منی ٹریل اور لندن جائیداد سے متعلق سوالوں کے جواب دیں گے۔

گذشتہ روز وزیراعظم کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز بھی پاناما جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، جہاں ان سے 7 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے حسن نواز کے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیئے گئے انٹرویو کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی، جس میں حسن نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ 1999 میں وہ لندن میں طالب علم کی حیثیت سے مقیم تھے اور ان کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

تفتیش کاروں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وزیراعظم کے صاحب زادے نے اعتراف کیا تھا کہ 1999 تک ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تاہم اپریل 2001 کی مالیاتی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس 70 لاکھ 571 پاؤنڈز کریڈٹ موجود تھا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پوچھ گچھ کے دوران کیے گئے زیادہ تر سوالات ان کی کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے تھے۔

دوران پوچھ گچھ سابق وزیر رحمٰن ملک کی تیار کی گئی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں اسحٰق ڈار نے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حسن نواز نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا واقعی ہوتا تو رحمٰن ملک جو پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیرداخلہ تھے ان کے خاندان کے خلاف ایکشن لے چکے ہوتے۔

حسن نواز کا کہنا تھا کہ والد نواز شریف کی جلاوطنی کے دور میں انہوں نے تمام کمپنیاں بنائیں اور قرضہ لے کر اپنا کاروبار جاری رکھا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ تمام کاروبار قانونی طریقے سے شروع کیا گیا تھا جس کے شواہد انہوں نے جے آئی ٹی کو پیش کیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY