محبت ودوستی کا استعارہ،شاہین اشرف علی۔۔۔نصرت نسیم

0
1754

دل کی سچائی سے نکلی دعائیں اور خواہشات کبھی کبھی یوں پوری ہو جاتی ہیں۔کہ خود کو بھی یقین نہیں آتا۔
شاہین ہمیشہ بہت پیار سے بلاتی رہتی ہیں۔خاص طور پر جب میری خود نوشت آئی تو باربار وہ دعوت دیتی۔کہ لاہور آو۔یہاں تمہاری کتاب کی تقریب پذیرائی کریں گے۔مستنصر حسین تارڑ سے ملواونگی۔وغیرہ وغیرہ

اور میں کہتی۔نہیں شاہین یہ ممکن نہیں۔میرے لئے بس پر اتنا لمبا سفر کرنا بہت مشکل ہے۔پر وہ اصرار کئے جاتی۔
پھر یوں ہوا۔کہ عمرے پرجانے لگے توکوشش کے باوجوداسلام آباد یاپشاور سے ٹکٹ نہیں مل سکے۔کہ ماہ صیام کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔اور بے پناہ رش تھا۔کہ عمرہ دوسال کی بندش کے۔بعد کھلا تھا۔لہذا بہ امر مجبوری لاہور کی پرواز لینی پڑی۔یوں ہمیں لاہور آنا پڑا۔صبح 6بجے لاہور پہنچے توشاہین نے پرجوش طریقے سے استقبال کیا۔ماڈل ٹاون پارک گئے۔لیجنڈ ادیب مستنصر حسین تارڑ سے اور تکیہ تارڑ والوں سے پرلطف ملاقات رہی۔اور انہیں اپنی خود نوشت پیش کی۔اس ملاقات اور لاہور یاترا کا حال میں 3 اقساط میں لکھ چکی ہوں۔قصہ مختصر یہ کہ سارا دن شاہین کے ہاں گپ شپ کرتے گزرا۔رات 10 بجے،ڈھیروں دعائیں دیتے ہوے اس سے رخصت ہوکر ائر پورٹ پہنچے ۔

اور اس مقدس سفر میں ہر جگہ اشرف بھائ اور شاہین کے لئے دل سے دعائیں کیں۔کہ ان کی محبت اور مہمان نوازی سے لاہور میں ایک بہت خوشگوار دن گزارا ۔عمرے اور دوبئ سے واپسی ہوئی تو شاہین سے جب بات ہوتی۔اس کااصرار ہوتا۔کہ دوبارہ لاہور آوں اور زیادہ دنوں کے لئے آوں۔کہ ایک دن کا تو مزہ نہیں آیا۔اور میرا جواب ہوتا۔کہ لاہور آنا آسان تھوڑی ہے۔وہ تو ٹکٹ لاہور سے مل گئےتھے۔ورنہ نسیم کب آنے پر راضی ہوتے۔ہمارا یہ مکالمہ اصرار وانکار والا جاری رہا تاآنکہ اپوا نے چھٹی تربیتی ورکشاپ اور ایوارڈ کی تقسیم انعامات کی تقریب رکھی۔جس میں میری پہلی تصنیف ” کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی۔”کو ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔لاہور جانا کارے دارد ۔

شاہین کو پتہ چلا تو اس کی خوشی دیدنی اور اصرار سوا تھا۔میں کشمکش اور گومگو کی کیفیت میں تھی۔مگر شاہین کی محبت اور اصرار کو دیکھ کر جانے کا فیصلہ کر لیا۔نیز اپوا کے شاندار پروگرام میں شرکت اور ایوارڈ لینے کی خوشی بھی تھی۔سو رات کی ڈائیو سے صبح سویرے لاہور پہنچے تو اشرف بھائی ہمیں لینے آے ہوے تھے۔گھر پہنچے تو شاہین نے کھلی بانہوں،کھلے دل اور گرم جوشی سے استقبال کیا۔ہم نے شاہین سے کہا۔یہ سب تمہارے دل کی صدا اور دعا سنی گئ۔کہ ہمارا آنے کا کوئی پروگرام ہوتاہے نہ منصوبہ بندی۔کہ اچانک لاہور آنا پڑتا ہے

۔شاہین نے بہت محبت سے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کیا۔ساتھ ساتھ گپ شپ دکھ سکھ بھی ہوتےرہے۔شاہین نے کھانے پر معروف لکھاری عطرت بتول اور ادیب نگر کی بانی بے شمار کتابوں کی مصنفہ تسنیم جعفری کو بھی بلا رکھا تھا(۔تسنیم اور عطرت کے لئے الگ پوسٹ لکھونگی،)

تسنیم جعفری اورعطرت سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔شاہین کےہاتھ کی بنی ٹوپیاں سب نے پہنیں۔سیلفیاں اورتصویریں لیں۔اور بہت پرمسرت وقت گزارا۔۔مسرتوں میں مزید اضافہ ان دونوں کی تعریفیں سن کر ہوا۔ کہ تصویروں کی نسبت آپ دیکھنے میں زیادہ اچھی اور جوان لگتی ہیں اب بھلا بتائیے کیا یہ تعریفیں سن کر ہمارا سیروں خون نہ بڑھتا

۔دوسرے دن اپوا کی تربیتی ورکشاپ میں جانے کے لئے تیار ہوے۔شاہین نے اپنا اجرک کا سوٹ، روایتی زیور اور ٹوپی پہنی جو اس پر بہت اچھی لگ رہی تھی۔ہم لوگوں نے اس کے خوبصورت لان میں تصویریں اور سلفیاں لیں۔اور ایک دوسرے کے قصیدے پڑھتے رہے۔ہیری ٹیج ہوٹل جاتے ہوئے بھی راستے میں اشرف بھائی پہلے نعتیں پھر پرانے گانے سناتے ہوئے گئے۔اپوا کی تقریب کے بارے میں تو میں پہلے ہی رپور تاژ لکھ چکی ہوں۔

شاہین کے اجرک کے خوش رنگ لباس، زیورات، بزے بڑے نگوں والی انگوٹھیوں اور باغ وبہار شخصیت کو سب نے پسند کیا۔شاہین کو اپوا تنظیم پسند آی۔اور انہوں نے اس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا۔اپنی ملنسار طبیعت کی وجہ سے شاہین نے اپوا کی سحرش، رخسانہ افضل، ریحانہ اعجاز، اور بہت سی بچیوں سے دوستی کرلی۔میرے آنے کے بعد ریحانہ اعجاز نے انہیں اپوا کے ڈنر میں مدعو کیا۔اور اپوا نے شاہین کوبھی میڈل پہنایا۔جس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔جب کہ شاہین کا کہنا تھا۔کہ تمہاری وجہ سے اپوا سے متعارف ہوئی۔اور تمہاری دعائیں لگی ہیں۔جو تم جاتے ہوے دے کر گئ ہو۔میں نے کہا ہاں مگر یہ تمہارا اخلاص ہے جو رنگ لایا۔کہ خلوص سے بلایا۔خدمت کی۔

دوسرے دن روانگی سے پہلے لاہور کے میلاد کی رونقیں دیکھیں۔گرما گرم حلوہ پوری کا ناشتہ کیا۔اور روانہ ہونے لگے۔تو شاہین نے راستے کے لئے چپس بسکٹ چیزوں کی پوٹلی بناکر ساتھ دی۔یہ پوٹلی وہ ہے۔جس میں دوستی کی انمول خوشبو اور احساس رچا بسا تھا۔اس احساس سے قیمیتی کیا چیز ہے بھلا ،

یہاں اشرف بھائی کے دوستانہ رویے اور محبت بھرے سلوک کا ذکر بھی ضروری ہے۔اگر وہ خوش خلقی سے پیش نہ آتے تو شاید شاہین کے پاس چند گھنٹے بھی رکنا محال ہوتا۔ہمیں ڈائیو کے اڈے پر رخصت کرنے آے۔تو دل سے دونوں محبتی میاں بیوی کے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔ہمیشہ شاد وآباد رہیں۔
۔

SHARE

LEAVE A REPLY