برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے میں ردوبدل کردیا۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ڈیوڈ لیمی کو برطانیہ کا وزیرانصاف اور نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ یویٹی کوپر کو برطانیہ کی وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستانی نژاد شبانہ محمود کو برطانیہ کی وزیر داخلہ مقررکیا گیا ہے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق اسٹیو ریڈ برطانیہ کے وزیر ہاؤسنگ جبکہ پیٹ میک فیڈن برطانیہ کے ورک اور پنشن کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں۔
پیٹر کائل کو برطانیہ کا وزیر تجارت، لِز کینڈل کو برطانوی وزیر سائنس جبکہ ایما رینولڈز کو برطانیہ کی وزیرماحولیات اور زراعت مقرر کیا گیا ہے۔
ڈگلس الیگزینڈر اسکاٹ لینڈ کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ جوناتھن رینالڈز برطانیہ کے چیف وہپ مقرر کردیے گئے ہیں۔
ڈیرن جونز کو برطانوی کابینہ آفس کا وزیر جبکہ ایلن کیمبل برطانوی ہاؤس آف کامنز کا لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق نائب برطانوی وزیراعظم اور ہاوسنگ منسٹر انجیلا رینر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انجیلا رینر نے ایسٹ ایسسیکس میں فلیٹ کی خریدی میں مکمل اسٹیمپ ڈیوٹی ادا نہ کر پانے کی بنا پراستعفی دیا ہے، انجیلا رینر لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے بھی مستعفیٰ ہوگئی ہیں۔
Published on: 17 Jul 2024
رائل کورٹس آف جسٹس میں ایک تاریخی تقریب میں رکن پارلیمنٹ شبانہ محمود نے برطانیہ کی پہلی خاتون مسلمان لارڈ چانسلر کے طور پر حلف اٹھالیا۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ تقریب برطانوی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، شبانہ محمود نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا۔
شبانہ محمود نے حلف اٹھاتے ہی بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کا دفاع اور انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کا عہد کیا، انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی دباؤ اور غیر ضروری اثر و رسوخ کے بغیر فیصلے کرنے چاہئیں،قانون کے مطابق، لارڈ چانسلر سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انصاف ہوتا ہے اور یہ عہدہ ایک وزیر کے برابر ہوتا ہے جو انگلینڈ اور ویلز میں عدالتوں اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
تقریب کے دوارن پہلی خاتون چیف جسٹس ڈیم سو کار نے متعدد تاریخی باتوں کی نشاندہی کی، انہوں نے کہا کہ آج ایک ’ٹرپل فرسٹ‘ کا دن ہے، پہلی بار کسی لارڈ چانسلر نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا، پہلی خاتون لارڈ چانسلر، اور پہلی بار کسی خاتون چیف جسٹس نے لارڈ چانسلر سے حلف لیا، یہ سنگ میل ہمارے آئین کے جاری ارتقا کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس موقع پر شبانہ محمود نے کہا کہ پہلے ہونے کی ذمہ داری استحقاق اور بوجھ دونوں ہے، اس ذمہ داری سے آنے والی نسلوں کے لیے دروازے کھل سکتے ہیں، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی قدیم ترین ٹائٹل ہم سے دور نہیں، ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں، جب کہ میں پہلی لارڈ چانسلر ہیں جو اردو بھی بول سکتی ہوں۔












