پنجاب میڈیکل کالج کے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے تیسرے بیچ کے لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی نے ابھی حال میں ہی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کیا
1985 جب کہ وہ کیپٹن تھے انہیں کوہ پیمائی کے سلسلہ میں صدر پاکستان نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روزسی ایم ایچ ہسپتال کا دورہ کیا اورکوہ پیما لیفٹیننٹ کرنل (ر) ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی کی عیادت کی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے انہیں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی چوتھی شخصیت کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔ آرمی چیف نے ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی کے سبز ہلالی پرچم کو سر بلند کرنے میں کردار کو سراہا، اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

dr jabbar bhati with army cheif

اس سے پہلے جاپان نے دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام اور فوج قربانیوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کیساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جاپان کی سفیر تاکاشی کورائی نے پیر کو جی ایچ کیو میں ملاقات کی ۔ملاقات کے دور ان باہمی دلچسپی کے امور بالخصوص خطے کی سکیورٹی کے معاملات زیر غور لائے گئے جاپانی سفیر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام اور فوج کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا ۔انہوںنے جاپانی حکومت کی طرف سے پاکستانساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ۔آرمی چیف نے جاپانی سفیر سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاپان خطے کے امن اوراستحکام کیلئے اپنا مثبت کر دار اداکرتا رہے گا ۔

اس سے پہلے کی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں عبد الجبار بھٹی کے ایورسٹ سر کرنے کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں لیکن الپائن کلب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایورسٹ سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران کیمپ فور کے راستے میں عبدالجبار بھٹی اور اُن کے شیرپا گائیڈ کی آکسیجن ختم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اُن کو رات آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ہی گزارنی پڑی۔
ساٹھ برس کی عمر میں دنیا کے بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر قدم رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی کی ساری زندگی مہم جوئی میں گزری ہے۔

کوہ پیمائی کی اصطلاح میں انھیں ‘ایٹ تھاؤزینڈر’ یعنی آٹھ ہزار فٹ بلند چوٹی سر کرنے والا کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھی اور فوج میں ان کے سینئیر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے بتایا کہ عبدالجبار بھٹی کی ذاتی زندگی کی مہمات اِس سے کہیں زیادہ کھٹن رہیں۔

dr jabbar bhati 2

انھوں نے بتایا’ بھٹی کی زندگی میں خاصے حادثات ہوئے،کئی مہمات آئیں لیکن وہ ہمیشہ بچتے رہے۔ ایک بار وہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے جو ڈوب گئی، وہ خود بھی خاصی حد تک ڈوب گئے تھے لیکن انھوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بچا لیا۔’

لیفٹینٹٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے بتایا کہ عبدالجبار بھٹی پیرا گلائڈر بھی ہیں اور ایک بار ان کا گلائیڈر فیل ہوگیا اور انھیں حادثہ پیش آیا جس میں ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں لیکن وہ اس سے بھی بچ نکلے اِس لیے ہم یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ ‘اِس’ حادثے سے بھی بچ جائیں گے۔

پاکستان میں تمغۂ بسالت اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کے حامل کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی دراصل ڈاکٹر ہیں اور فوج میں سپیشل سروسز گروپ میں بطور کمانڈو خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار پاکستان کے چوتھے کوہ پیما ہیں جنھوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان سے قبل نذیر صابر، حسن سدپارہ اور ثمینہ بیگ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اس سے قبل کرنل عبدالجبار نے پاکستان میں سنہ 1985 میں براڈ پیک اور 1986 میں گیشربروم ٹو نامی چوٹیاں سر کی تھیں۔ ان دونوں چوٹیوں کی اونچائی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY