برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے

0
781

پولنگ کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا اور یہ رات دس بجے تک جاری رہے گی۔ پورے ملک میں ان انتخابات کے لیے 40 ہزار پولنگ مراکز قام کیے گئے ہیں

کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

عوام اس الیکشن میں پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام کے لیے 650 ارکان منتخب کریں گے

برطانیہ میں عام انتخابات کیلئے پولنگ جاری ہے، کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس کے امیدوار آمنے سامنے ہیں، برطانوی پارلیمان میں کسی بھی جماعت کو اکثریت کیلئے 326 چھبیس نشستوں کی ضرورت ہوگی۔

گزشتہ سال 23 جون کو برطانوی عوام نے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کا گرین سگنل دیا، بریگزٹ کن شرائط پر ہونا چاہئے، تھریسا مے نے کنزرویٹو پارٹی کا مدعا مضبوط کرنے کیلئے 19 اپریل 2017ء کو اسنیپ الیکشن کا اعلان کیا اور 50 دن کی الیکشن مہم کے بعد آج برطانیہ میں عام انتخابات کیلئے شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں

وٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گی، 4 کروڑ 69 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، دارالعوام کی 650 نشستوں کیلئے 3 ہزار 304 امیدوار میدان میں ہیں۔

کنزرویٹو پارٹی کی تھریسامے اور لیبر پارٹی کے جیریمی کوربن کے درمیان ٹکر کا مقابلہ متوقع ہے، لبرل ڈیموکریٹس کے ٹم فیرون ہوں، اسکاٹش نیشنل پارٹی کی نکولا اسٹرجن ہوں یا پھر یوکیپ کے پال نیوٹل، تمام جماعتیں دارالعوام میں اپنی نشستوں کی تعداد بڑھانے کیلئے پُرعزم ہیں

گزشتہ 3 ماہ میں برطانیہ میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات نے حکمران جماعت کی مقبولیت کو ٹھیس پہنچائی ہے، عوام کا اعتماد کس پارٹی کو ملتا ہے یہ تو ووٹوں کی گنتی شروع ہونے پر ہی واضح ہوپائے گا

کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے قائدین نے صبح ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

کسی سیاسی جماعت کو ان انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے دارالعوام کی کم از کم 326 سیٹیں جیتنا ضروری ہیں۔
اس بار تقریباً چار کروڑ 69 لاکھ افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جو ووٹ ڈالیں گے جبکہ سنہ 2015 کے عام انتخاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چار کروڑ 64 لاکھ تھی۔
بعض ووٹر ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ پہلے ہی ڈال چکے ہیں۔ گذشتہ عام انتخاب میں 16 فیصد سے بھی زیادہ لوگوں نے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔
2015 کے انتخاب میں، جب کنزرویٹیو پارٹی نے 331 سیٹیں حاصل کی تھیں، ووٹنگ کی شرح 66.4 فیصد تھی۔
شام دس بجے تک ووٹ ڈالنے کا وقت ہے لیکن حکام کے مطابق جو افراد اس وقت تک قطار میں لگ چکے ہوں گے انھیں دس بجے کے بعد بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY