تصویر لیک اور جے آئی ٹی طریقہ کار پر حسین نواز کے اعتراضات اور تحقیقات میں رکاوٹوں پر جے آئی ٹی کے تحفظات کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔
جے آئی ٹی نے ایوان وزیراعظم، ایس ای سی پی، نیب، ایف بی آر، وزارت قانون اور انٹیلی جینس بیورو پر رکاوٹیں ڈالنے کے الزام لگادئیے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے آج سپریم کورٹ میں جوابات جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔
جے آئی ٹی کی جانب سے رکاوٹوں، مشکلات اور دباؤ کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایس ای سی پی نے اپنے خط میں شریف فیملی کے خلاف کبھی بھی انکوائری کے ہونے سے انکار کیا جبکہ اسی کے گواہ کے مطابق چیئرمین نے شریف فیملی کے خلاف انکوائری ریکارڈ تلاش کرنے سے منع کیا اور چوہدری شوگر مل کی تحقیقات کا ریکارڈ تبدیل کیا گیا۔
اس کے علاوہ وزارت قانون و انصاف نے بیرون ملک تحقیقات کیلئے لکھے گئے خط کے جواب میں پانچ دن تاخیر کی۔ ایف بی آر سے شریف فیملی کے 1985 سے ریکارڈ طلب کیے گئے تو ایف بی آر نے صرف پانچ سال کا ریکارڈ ہی دیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گواہان کو فریقین کی جانب سے بیانات سکھائے جا رہے ہیں۔ جے آئی ٹی کی اداروں سے خفیہ خط و کتابت میڈیا کو جان بوجھ کر جاری کی جاتی ہے جس کا مقصد تحقیقاتی عمل کو متنازع بنانا ہے۔
دوسری جانب مشترکا تحقیقاتی ٹیم کے الزامات پر نیب، انٹیلی جنس بیورو، ایس ای سی پی اور ایف بی آر نے جواب میں لگائے گئے تمام الزامات مسترد کر دیے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ عرفان منگی کو جاری کیے گئے شو کاز نوٹس کا مشترکا تحقیقاتی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کا کہنا ہے کہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتے، جے آئی ٹی اور اس سے متعلقہ امور سے کوئی تعلق نہیں۔
سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ مشترکا تحقیقاتی ٹیم کو ریکارڈ فراہم کیا جارہا ہے، کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، ایف بی آر نے بھی جے آئی ٹی کے الزامات مسترد کردیے اور کہا تمام ریکارڈ بروقت مہیا کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY