متنازع شہریت قانون: اقوامِ متحدہ نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

0
554

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارت کی اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے عالمی تنظیم کے اس اقدام کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو متنازع شہریت قانون پر ملک کے اندر اور باہر سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کونسل نے منگل کو شہریت قانون کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے بھی شہریت قانون کے خلاف فریق بنایا جائے۔

بھارت کی اعلیٰ عدالت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف پہلے ہی 143 درخواستیں زیرِ سماعت ہیں جن میں بعض درخواستیں سیاسی جماعتوں اور بعض عام شہریوں کی ہیں۔

بھارت کی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس سمیت انڈین یونین مسلم لیگ، ریاست تامل ناڈو کی جماعت دراویدا منیترا کازغم اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی شہریت قانون کے خلاف فریق ہیں۔

ششی تھرور کا کہنا ہے کہ پہلی بار ایک ایسا قانون بنایا گیا ہے جو شہریت کے لیے مذہب کو پیمانہ بناتا ہے۔
SEE ALSO:
بھارت کا موجودہ بحران حکومت کا خود پیدا کردہ ہے: ششی تھرور
مذکورہ جماعتوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ شہریت قانون غیر قانونی ہے اور یہ آئین کے سیکیولر تشخص کے منافی ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں حال ہی میں ہونے والے فسادات پر انسانی حقوق کونسل کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے دہلی فسادات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں دکانوں، اسکولوں اور رہائشی گھروں کو جلانا خوف ناک ہے۔

تاہم اب انسانی حقوق کونسل نے شہریت قانون کے خلاف فریق بننے کے لیے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے اور ایسا بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کونسل کا متنازع شہریت قانون پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر بھارت نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون ایک داخلی معاملہ ہے اور بھارت کی خودمختاری سے متعلق امور پر کسی بھی غیر ملکی تنظیم کو بات کرنے کا حق نہیں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریت قانون بھارت کی پارلیمان سے منظور ہوا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی خودمختاری سے متعلق امور میں کوئی بھی غیر ملکی مداخلت نہیں کرے گا۔

عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر اشتیاق دانش نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت شہریت قانون کو اپنا داخلی معاملہ بتا کر اقوام متحدہ کو مداخلت سے نہیں روک سکتا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح بھارت نے بھی اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں اور ہم نے اقوامِ متحدہ کو اجازت دی ہے کہ وہ ایک واچ ڈاگ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ البتہ یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے کہ اقوام متحدہ بھارتی سپریم کورٹ میں فریق بن سکتا ہے یا نہیں۔

ادھر ایران نے دہلی کے فسادات کی سخت مذمت کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں دہلی فسادات کو مسلمانوں کے خلاف منظم سازش قرار دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY