ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دل کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والے سٹنٹ کی قیمت مقرر کردی گئی ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایف ڈی اے سے منظور شدہ ٹاپ آف لائن تھرڈ جنریشن سٹنٹ کی قیمت 1لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

یورپین مارک کے ایف ڈی اے سے منظور شدہ سٹنٹ کی قیمت 95ہزار مقرر ہوئی ہے جبکہ سٹینڈرڈ ٹاپ آف لائن ایف ڈی اے سے منظور شدہ سیکنڈ جنریشن سٹنٹ کی قیمت 67ہزار روپے طے پائی ہے۔ اگر بغیر دوائی والا نان کوٹیڈ سٹینڈ درکار ہو تو بجٹ سٹنٹ یعنی فرسٹ جنریشن سٹنٹ کی قیمت 50ہزار اور میٹل سٹنٹ کی قیمت 22ہزار 500مقرر کی گئی ہے۔

سٹنٹ ڈالنے کے دوران استعمال ہونے والے غبارے کی قیمت 11ہزار سے 15 ہزار روپے طے پائی ہے۔ دوسری جانب ڈرگ لائرز فورم کے صدر ڈاکٹر نور مہر اور ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی صدر حنا شوکت نے ان قیمتوں کو کمپنیوں کی سازش قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایات جاری کریں کہ وہ غریب مریضوں کو ریلیف دیں کیونکہ وفاقی ادارے ایف آئی اے کی فروری 2017 کی رپورٹ کے مطابق جرمنی سے یہ سٹنٹ 20 یورو میں خریدا جاتا ہے اور پنجاب گورنمنٹ خود چند ماہ قبل پنجاب کے پانچ کارڈیک سنٹرز کے لئے سٹنٹ 33ہزار میں خرید چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور ظلم یہ ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کمپنیوں کو نوازنے کے لئے سٹنٹ کی قیمتیں کمپنیوں کے نام برانڈ کے ساتھ مقرر کی گئیں جو ظلم ہے۔ اگر قیمتیں مقرر کی گئی ہیں تو سٹنٹ کا نمبر اور کوالٹی کے نام سے مقرر کی جاتیں تاکہ تمام کمپنیوں کو فروخت کا موقع مل سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY