ایک رپورٹ آئی مگر کیوں آئی ؟ عالم آرا

0
460

ہمارے ملک میں جتنے کمیشن بنتے ہیں اتنی رپورٹیں نہیں آتیں ۔لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اُن رپورٹوں کا کیا بنا اور یہ کہ وہ کس کی تحویل میں ہیں ۔کیونکہ آج تک کوئی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آئی یا آنے نہیں دی گئی ۔خیر ایک رپورٹ کا آج کل چر چا ہے جو سب کے سامنے پیش کر دی گئی ہے جن جن کے متعلق اُس میں استفسار ہیں وہ وا ویلا مچا رہے ہیں کہ یہ تو ہماری زمے داری تھی ہی نہیں وزارتِ داخلہ بھی کانفرنسیں کر رہی ہے ۔اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ بجائے اس کے کہ اُس میں موجود نشاندہی پر بات کی جائے سب ایک دوسرے پر الزام دَھر رہے ہیں ۔حالانکہ وہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے اور وہ ہی بات کر رہی ہے جو سب کے دلوں میں ہے ۔کچھ تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ وزارتِ داخلہ اور حکومت میں اختلاف ہے اس لئے یہ رپورٹ سامنے آگئی ۔کچھ بھی ہو کم از کم کسی نے تو ہمت دکھائی کہ وزارتوں کے بارے میں بات کرے ۔

ہمارے وزیرِ اعظم غریب ملک کے امیر وزیرِ اعظم آج کل دورے پر ہیں اور جب تک وہ دورے پر رہینگے ایک جہاز جس میں چار سو مسافر سفر کرتے ہیں وہاں تین دن تک کھڑا رہے گا ۔کہتے ہیں نقصان نہیں ہوگا کیونکہ پی آئی اے کو اس کا پورا پورا معاوضہ دیا جائیگا ؟؟ بالکل ٹھیک لیکن یہ تین دنوں میں سفر کرنے والے مسافر جو تکلیف اُٹھائینگے اس کا کیا ؟؟ کہتے ہیں کہ جہاز کی سیٹیں آرام دہ بنائی گئی ہیں تاکہ ہز ایکسی لینسی کو کوئی تکلیف نہ ہو نہ اُن کے مصاحب سفر میں پریشان ہوں کہ یہ پریشانیاں اور تکلیفیں تو بس عوام کا مقدر ہیں ۔کہ کہیں بھی جان کی امان نہیں ؟؟ورنہ ہمارے ملک میں تو صرف بڑوں کی جان قیمتی ہے باقی سب تو کیڑے مکوڑے ہیں پیر کے نیچے آنے کے لئے اُنکی زندگی حفاظت چہ معنی دارَد کوئی آواز نہیں اُٹھتی کوئی باہر نہیں نکلتا اور ہم ہر ایسی بات پر حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں کہ اتنی بے حسی ۔۔

بے حسی کی اعلیٰ مثال تو ہمیں نظر آئی اپنے خادمِ اعلیٰ کی ایک کانفرنس میں جس میں بلوچستان کی ایک بچی کے انتہائی اہم سنجیدہ سوال پر اور اُن محرومیوں کی نشاندہی پر جو اُس کے صوبے میں ہیں وزیرِ اعلیٰ نے قہقہے لگائے اور ایسی حقارت اور تضحیک اُن کی ہنسی میں تھی کہ ہم حیران رہ گئے کہ یہ ہمارے بڑے ہیں جو ایک معصوم طالبہ کے ایک انتہائی اہم اور محرومی کی نشاندہی پر قہقہے لگا رہے ہیں مگر شاید ہم ہیں ہی اسی قابل کیونکہ ہم نے انہیں منتخب کیا ؟؟؟

ایک خبر پر بے اختیار ہمارے منہہ سے واہ واہ نکل گئی اور دل چاہا کہ اپنے عوام کے ہی قربان جائیں کیونکہ اب ہمیں حکام سے زیادہ عوام سے شکایت ہے جو اپنا منہ ریت میں چھپا کر سمجھتے ہیں طوفان گزر گیا ۔پلی بار گین قانون کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک شخص اربوں کھربوں کی کرپشن کرے گھر سے پیسہ نکلے اتنا پیسہ کی مشینیں بھی تھک جائیں گنتے گنتے اور وہ اآٹے میں نمک سے بھی کم پیسہ واپس کر کے بھلا چنگا اپنے گھر جائے نہ صرف گھر جائے بلکہ اُسے عزت اور احترام بھی دیا جائے اُس پر سے گرد جھاڑ دی جائے اور وہ پھر نیا نکور ہو کر وزارت سنبھال لے ۔ہے نہ واہ واہ کرنے کی بات ۔ہر حکومت دوسری پر الزام لگا کر بھلی چنگی ہو جاتی ہے کیونکہ جتنے معصوم اور نا سمجھ ہمارے حکمران ہیں اتنے شاید دنیا بھر میں کہیں نہیں ہونگے یہ پانچ سال گزاریں جب کچھ نہیں کرتے ۔یہ دِس سال گزاریں جب کچھ نہیں کرینگے کیونکہ کام کرنے والے بہت سخت ہوتے ہیں وہ صرف اور صرف صفائی پر توجہ دیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جھاڑو کے نیچے کون اآرہا ہے ۔مگر ہمارے تو عوام ہی کمزور ہیں جس کی وجہ سے یہ ظالم اور بے حس حکمران پروان چڑھ رہے ہیں ۔عوام نہ پلی بارگین پر بولتی ہے نہ یہ پوچھتی ہے کہ زرداری صاحب نے دُبئی میں بیٹھ کر کیاایسا کارنامہ انجام دیا ہے کہ اُن کا اتنا زبردست استقبال کیا جارہا ہے ۔پورے صوبے کی مشینری اور ہر کارے استعمال کئے جائینگے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ نواز صاحب بہت خوش ہیں کہ اُنہیں بچانے والے تشریف لا رہے ہیں جیسا کہ انہوں نے بیان دیا ہے ۔ہم ایک مثال دینا چاہتے ہیں لیکن یہ ہمارے بڑے ہیں ہمیں تو شرم آتی ہے لیکن مثال ہے کہ چور کا بھائی گرہ کَٹ یہ مثال کہاں بولی جاتی ہے ہمیں نہیں پتہ بس اس وقت ہمیں یاد آئی اور ہم نے لکھ دی ۔

ہم تو صرف یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے مذہبی امیر بھی کہیں نہ کہیں ان سب باتوں کے زمے دار ہیں کیونکہ وہ عدالت میں کمیشن کی بات کرتے ہیں بجائے یہ کہنے کے کہ فیصلہ جلد کیا جائے کیونکہ یہ معاملات پا نا ما جیسے لٹکانے کے لئے نہیں ہوتے ،ہم کتنے کمزور ہیں کہ ایسے مقدمے پر بھی جو سب کے سامنے صاف ہے جلدی فیصلہ نہیں دے سکتے صرف اس لئے کے کچھ بڑے شامل ہیں ۔ایک مزہبی سیاست دان کہتے ہیں افغانوں کو واپس لا ؤ یہاں بساؤ نہ صرف بساؤ بلکہ ایک صاحب تو صوبہ تک بنانے کی بات کرتے ہیں ،ایک مزہبی سیاست دان کہتے ہیں کہ میں پانچ حصوں میں بٹتا دیکھ رہا ہوں ۔ہم ہمیشہ ان مزہبی لوگوں کے سیاست میں اآنے کے مخالف ہیں کیونکہ ان کا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور بھلائی کی طرف لانا ہے مگر جب یہ سیاست میں مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو اپنے مزہبی فرائض میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں یہ ہماری سوچ ہے اس کے مطابق جو کچھ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں ۔کیا ان لوگوں کوپلی بارگین اور کرپشن کے خلاف اور فیصلوں میں دیر کے خلاف آواز نہیں اُٹھانی چاہئے ،احتجاج نہیں کرنا چاہئے ۔یہ تو ڈوبتی کشتیوں کو کمیشن کا سہارا دے کر اور وقت دینے کی بات کر رہے ہیں جو ہم جیسے جاہل سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
ذندہ قومیں کبھی نہ تو ظلم سہتی ہیں اور نہ ہی ظالموں کو رستہ دیتی ہیں کاش ہمارے عوام بھی خُم ٹھونک کر نکل آئیں ہر برائی کے خلاف باہر اور بدل لیں اپنی قسمت کہ قسمت خود ہی بدلی جاتی ہے ،پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی تبدیلی ۔کاش ہم سب اپنے اوپر ہی نظر کریں ۔

اللہ میرے ملک کو اس ماحول سے نکالے اور سچے اور اچھے لیڈر عطا فرمائے آمین ۔

عالم آرا

SHARE

LEAVE A REPLY