وزارت قانون وانصاف نے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناماکیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کےالزامات کو مسترد کردیا۔

وزارت قانون وانصاف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزارت کے حوالے سے جے آئی ٹی کے الزامات مکمل طورپر بے بنیاد ہیں۔

خیال رہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں وزارت قانون کی جانب سے جان بوجھ کر دستاویزات کو چھپانے، سرکاری دستاویزات سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی فراہمی میں تاخیر کے الزامات لگائے تھے۔
جے آئی ٹی نے وزارت قانون پر ٹیم کے چیئرمین کے اختیارات کے حوالے سے اعلامیے میں تاخیر کا الزام عائد کیا تھا۔

وزارت نے جےآئی ٹی کی جانب سے چیئرمین کےاختیارات کانوٹی فکیشن تاخیرسےجاری کرنے کا الزام مکمل طور پر رد کردیا۔

وزارت قانون کا اعلامیے میں کہنا ہے کہ دستاویزات فراہمی میں وزارت کی طرف سےکسی قسم کی تاخیرنہیں کی گئی۔

وزارت قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے 15مئی کےحکم نامے سے متعلق اٹارنی جنرل نے 16مئی کو آگاہ کیا اور سپریم کورٹ کے حکم کےمطابق 2 دن میں نوٹفیکیشن جاری کیا گیا۔

نوٹی فکیشن کےاجرا کی سمری 17 مئی کوکابینہ کو بھجوائی گئی اور کابینہ ڈویژن نے18مئی کوسمری کی منظوری سےمتعلق آگاہ کیا جس کے بعد وزارت قانون نے 18 مئی کوہی نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

وزارت قانون کا کہنا ہے کہ نوٹیفیکیشن کی کاپی چیئرمین جےآئی ٹی،اٹارنی جنرل، رجسٹرارسپریم کورٹ اور سیکریٹری داخلہ کو بھی بھجوا دی گئی تھی۔

چیئرمین جےآئی ٹی کو نوٹی فکیشن کی کاپی 18مئی کو موصول ہوئی اور چیئرمین نےنوٹی فکیشن 2 دن میں انٹرپول سمیت تمام سفارتی چینلزکوبھجوانےکی ہدایت کی۔

وزارت قانون نے 18مئی کوہی نوٹفکیشن وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کوضروری کارروائی کے لیے بھجوایا۔

یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران درپیش مسائل سے متعلق سپریم کورٹ میں الگ درخواست دائر کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY