برطانوی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کو طالبان کو ایک نئی حکومت بنانے کا موقع دینا چاہیے کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ جن باغیوں کو مغرب دہائیوں سے عسکریت پسند قرار دیتا آرہا ہے ان کا رویہ مناسب ہوگیا ہو۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے عہدیدار نے کہا تھا کہ ان کی تحریک کے رہنما دنیا کے سامنے آئیں گے جو گزشتہ 20 برس سے ان کے رہنماؤں کے خفیہ رہنے کے برعکس ہے۔
برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نک کارٹر نے کہا کہ وہ سابق افغان صدر حامد کرزئی سے رابطے میں ہیں جو بدھ کے روز طالبان سے ملاقات کریں گے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے نک کارٹر کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں صبر کرنا ہوگا، اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا ہوگا اور انہیں ان کی صلاحیت دکھانے کا موقع دینا ہوگا۔
ساتھ ہی انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ہوسکتا ہے یہ طالبان نوے کی دہائی والے طالبان سے مختلف ہوں۔













