جیل سے ملزمان کا فرار افسران کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج تاہم اے ٹی سی منتظم جج نے ملزمان کا ریمانڈ نہیں دیا جس کے بعد سی ٹی ڈی ٹیم واپس چلی گئی۔
عدالت نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان پہلے سے ریمانڈ پر ہیں، ریمانڈ پر ریمانڈ نہیں دیا جاسکتا۔ اس موقع پر عدالت نے تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی کہ پہلے سے موجود جیل ریمانڈ ختم کرا کر لائیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد سی ٹی ڈی کی تفتیشی ٹیم سندھ ہائی کورٹ سے واپس چلی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کےملزمان کوفرار کرانا بھی دہشت گردی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ جیل انتظامیہ نے ذمے دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کمزور مقدمہ بنایا ہے جبکہ تفتیشی پولیس افسر نے بھی ملزمان سے تفتیش میں مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام نے دعوی کیا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش میں پولیس کی جانب سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا اور ان کو ریمانڈ کے بجائے جیل بھجوادیا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ مقدمے میں جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت 12 ملزمان کیخلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل کی گئی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY