چیمپئنز ٹرافی میں پہلی بار فائنل کھیلنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم نے روایتی حریف بھارت کو 180رنز سے عبرتناک شکست دیدی ہے۔

ایونٹ کے پہلے میچ میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست سےدوچار ہونے والی آٹھویں نمبر کی ٹیم کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ وہ کپ اپنے گھر لے جائے گئی ،مگر سرفراز کی قیادت میں گرین شرٹس نے یہ کارنامہ انجام دیدیا۔

ائنل میں پاکستان کی جیت میں فخر زمان کی شاندار سنچری ،محمد حفیظ اور اظہر علی کی نصف سنچریوں کے ساتھ محمد عامر ،حسن علی ، شاداب خان کی بولنگ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ۔

بھارت کی مضبوط ٹیم کے خلاف پاکستان نے بیٹنگ،بائولنگ کے ساتھ فیلڈنگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی یقینی چوکے روکے،ٹیم نے بھارت کے خلاف بڑے ایونٹ کے بڑے میچ میں کامیابی پر میدان میں اجتماعی سجدہ شکر ادا کیا۔

………………………..

آئی سی سی چیمئیپنز ٹرافی کا پاک بھارت فائنل دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کرکٹ میچ آج اوول کے تاریخی میدان میں کھیلا جا رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت اننگز

۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسواں اوورپاکستان چمپینز ٹرافی  180 سکور سے جیت گیا

انتیسواں اوور نو وکٹ۔ حسن علی وکٹ۔ اشون کیچ سرفراز

اٹھائیسواں اوور، آٹھ وکٹ،  ایک سوچھپن سکور

ستائیسواں اوور، پانڈیا رن آوٹ سات وکٹ، ایک سو چون  سکور

پانڈیا کی دھواں دار بیٹنگ

چھبیسواں اوور، چھ وکٹ، ایک سو باون سکور

پچیسواں اوور، چھ وکٹ، ایک سو سینتیس سکور

تئیسواں اوور، پانڈیا کی نصف سنچری،،چھ وکٹ،  ایک سو اٹھائیس سکور

بائیسواں اوور، چھ وکٹ، ایک سو پانچ سکور

اکیسواں اوور،چھ وکٹ، ایک سو دو سکور

بیسواں اوور، عماد وسیم باولر، چھ وکٹ،ترانوے سکور

انیسواں اوور،پنڈیا نے چھکا لگایا، چھ وکٹ، نواسی سکور

اٹھارہواں اوور، چھ وکٹ، اسی سکور

بھارتی شائقین اوول گراونڈ سے واپس جانا شروع ہو گئے ہیں

سترہواں اوور، چھ وکٹ،چوہتر سکور

چودہواں اوور،دھونی کیچ، حسین علی باولر، پانچ وکٹ، پچپنسکور

تیرہواں اوور، یو راج بولڈ شاداب، چار وکٹ،،چون  سکور

بارہواں اوور، نیا باولر حسن علی،پچاس سکور

گیارہواں اوور، تین وکٹ،میڈان اوور،سنتالیس سکور

دسواں اوور، دھونی کریز پر، یوراج چوکا، حفیظ باولر، سینتالیس سکور

نواں اوور، تین وکٹ، دھون آوٹ، باولر عامر،کیچ سرفراز، تینتیس سکور

آٹھواں اوور، دھون دو چوکے، دو وکٹ، اکتیس سکور

ساتواں اوور، دو وکٹ،بائیس  سکور

چھٹا اوور،دو وکٹ یوراج چوکا، اکیس سکور،

پانچواں اوور، دھون دو چوکا ، دو وکٹ، سولہ سکور

،چوتھا اوور، دو وکٹ، میڈن اوور، سات سکور

تیسرا اوور، دو وکٹ، سات سکور۔کوہلی کا کیچ اظہر نے گرایااور اگلے ہی گیند میں عامر نے کوہلی کو کیچ کروا دیا یہ کیچ شاداب  نے لیا

یوراج سنگھ کریز پر

دوسرا اوور۔ایک وکٹ۔ چار سکور

پہلا اوور۔ باولر عامر، بلے باز،روہت اور دھون

پہلے اوور کی تیسری گیند پر عامر نے روہت کو ایل بی ڈبلیو کر دیا

کوہلی کھیلنے کے لیئے آئے

پہلے اوور میں ایک وکٹ پر دو سکور

،،،،،،،،،،،،،

آخری اور پچاسواں اوور، چار وکٹ،تین سو اڑتیس سکور۔حفیظ  ستاون سکور اور عمار کے  پچیس سکور

انچاس اوور،حفیظ نصف سنچری، تین سو انتیس

اڑتالیس اوور ،تین سو بائیس،چار وکٹ

اکتسویں اوور میں فخر زمان کی پہلی سنچری اور وہ بھی بھارت کے خلاف۔ ویل پلیڈ فخر

تیس اوور ایک وکٹ، ایک سو اناسی۔فخر چھیانوے

انتیس اوور ایک وکٹ ایک سو چھہتر سکور۔فخر پچانوے

اٹھائس اوور ایک وکٹ ایک سو پچھتر سکور۔ فخر زمان چورانوے سکور

ستائیس اوور ایک وکٹ پر ایک سو ستاسٹھ۔فخر زمان نواسی

 پچیس اوور ایک سو چوالیس ایک وکٹ

تئیس اوور۔اظہر علی رن آوٹ۔ پاکستان ایک وکٹ پر ایک سو اٹھائیس

بیس اوور میں پاکستان نے کسی نقصان کے بغیر ایک سو چودہ سکور کیا۔ اظہر علی اور فخر زمان کی نصف سنچری

اٹھارہ اوور میں پاکستان کے ایک سو سکور کسی نقصان کے بغیر

پندرہ اوور چھیاسی کسی نقصان کے بغیر۔ اظہر چالیس فخر تینتیس۔ باولنگ میں تبدیلی، وری جدیجا بال کریں گے

دسواں اوور۔ اظہر چوکا۔ چھپن سکور کسی نقسان کے بغیر۔

نواں اوور۔ میڈن اوور۔ اڑتالیس سکور کسی نقصان کے بغیر۔

آٹھواں اوور۔ اشون باولنگ کے لیئے۔ اظہر علی کا چھکا۔ اڑتالیس کسی نقصان کے بغیر۔

ساتواں اوور۔اڑتیس کسی نقصان کے بغیر۔

چھٹا اوور۔ اظہر علی چوکا۔ اظہر دوسرا چوکا۔ چھتیس کسی نقصان کے بغیر۔

پانچواں اوور۔ فخر چوکا۔ ستائیس سکور کسی نقصان کے بغیر۔

چوتھا اوور۔ فخر آوٹ ہوا لیکن نو بال کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ فخر کا چوکا۔ اظہر کا چوکا۔ چوتھے اوور میں سکور انیس۔

تیسرے اوور میں پاکستان کا سکور سات ہے کسی نقصان کے بغیر

دوسرے اوور میں پاکستان نے کسی نقصان کے بغیر تین سکور کیا ہے

پہلا اوور میڈن۔ دوسرا اوور بھومرا کر رہے ہیں اور فخر کھیلیں گے

 بھارتی ٹیم فلیڈ کے لیئے میدان میں ہے اور پاکستان کی طرف ست فخر زمان اوراظہر اوپننگ کر رہے ہیں اور بھارت کی باولنگ کا آغاز بھوشنر کمار نے کیا ہے۔پہلا گیند اظہر نے کھیلا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوول کا میدان شائقین سے بھرا ہوا ہے

دونوں ٹیمیں میدان میں ہیں جہاں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ہے لندن اتشزدگی سمیت دیگر سانحات کے حوالے سے

 دونوں ٹیموں کے قومی ترانے بجائے گئے ہیں پہلے بھارت کا اور بعد میں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا

کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کا میچ ایک یادگار میچ ہو گا اور بھارت مسلسل دوسری مرتبہ چمپین ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرے گا

تازہ اطلاعات ٹیم اوول پہنچ گئی ہے اور مکی آرتھر کے مطابق عامر تندرست ہیں اور فائنل کھیلیں گے

چیمپئنز ٹرافی کےفیصلہ کن معرکے میں بھارت نےپاکستان کے خلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ کیا ہے۔

کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں گے، اپنی کارکردگی میدان میں دکھائیں گے نئے لڑکوں کی پرفارمنس کافی حوصلہ افزا ہے، بھارت کے خلاف حکمت عملی بنائی ہے، اچھا میچ ہوگا۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ پچھلے ریکارڈ، ہار اور جیت سب بیکار ہیں، کوئی گارنٹی سے نہیں کہہ سکتا کہ کون سی ٹیم کامیاب ہوگی، کل جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہی ٹرافی لے جائے گی۔

عظیم عمران خان اور یونس خان جیسے کپتانوں کے ہم پلہ آنےکے لئے سرفراز احمد ایک جیت سے دور ہیں اورپاکستانی ٹیم گروپ میچ کی شکست کا حساب برابر کے لئے بے چین ہے۔

ویرات کوہلی کی قیادت میں بھارتی ٹیم کو اس گراونڈ پر سری لنکا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی تاہم اس کا مجموعی ریکارڈ بہت اچھا ہے جبکہ اس کے بیٹسمین فارم میں ہیں اور بولر ہر میچ میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

مکی آرتھرکا کہنا ہے کہ میری ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں مکمل نظر انداز کردیا گیا تھا خاص طور پر اُس وقت جب پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن ہم نے سب کو غلط ثابت کردیا۔

اوول کے میدان میں دھوپ کے نکلنے کی امید نہیں ہے۔ لیکن گرمی کی شدت کے بارے میں 30 ڈگری تک کی پیش گوئی کی گئی ہے

میچ کے لئے بھارت کی ممکنہ ٹیم روہت شرما، شیکھر دھون، ویراہت کوہلی، یووراج سنگھ، مہندرا سندگھ دھونی، کیدر جادھو، رویندرا جدیجا، امیش یادو، بھنیشور کمار اور جسپریت بمراہ پر مشتمل ہوسکتی ہے

پاکستان کی طرف سے اظہر علی، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک سرفراز احمد، عماد وسیم، محمد عامر، شاداب خان، حسن علی اور جنید خان پر مشتمل حتمی ٹیم گرائونڈ میں اتر سکتی ہے

لاکھوں کے ٹکٹس ہاتھوں ہاتھ بک چکے، کروڑوں کے اشتہار بک ہو چکے، اب انتظار ہے، لائٹ، کیمرہ ایکشن کا، تو گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ دھڑکنوں کی دھک دھک چلے گی۔

میچ سے قبل ہفتے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ ہم صرف جیتنے کیلئے کھیلتے ہیں۔ ہم اعدادوشمار یا جو کچھ پہلے ہوا اس پر یقین نہیں رکھتے۔ بحیثیت ٹیم ہمارا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ایک مکمل کرکٹ میچ کھیلیں اور میچ جیتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ٹیم کے خلاف ماضی کے ریکارڈز کی بنیاد پر نہیں کھیل سکتے اور فتح اسی ٹیم کے قدم چولے گی جو بہترین طریقے سے تیاری کرتے ہوئے میچ کے دن بہترین کھیل پیش کرے گی اس کے جیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کوہلی نے کہا کہ پہلے میچ میں پاکستان کے خلاف فتح کا اس میچ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمیں نہیں پتہ اگلے میچ میں ٹیم کس طرح آغاز کرے گی۔ کچھ ٹیمیں اچھا آغاز کرتی ہیں لیکن وہ بعد میں اچھا نہیں کھیل پاتیں جبکہ کچھ ٹیموں کا آغاز اچھا نہیں ہوتا لیکن وہ بعد میں بہترین انداز میں واپسی کرتی ہیں جیسے کہ پاکستانی ٹیم نے کیا۔

’ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کی ٹیم میں کتنے باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور ان کی ٹیم میں جس طرح کے کھلاڑی ہیں وہ اپنے مخصوص دن دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتے ہیں‘۔

بھارتی کپتان نے کہا کہ دونوں ٹیمیں فائنل جیتنا چاہتی ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ ایک بہترین میچ ہو گا۔ اگر دونوں ٹیموں 11، 11 کھلاڑی اپنی 120فیصد کارکردگی دکھائیں گے تو ایک بہترین میچ ہو گا اور میرا نہیں خیال کہ پہلے میچ سے اس کا کوئی تعلق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کوہلی نے فائنل میچ کیلئے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہردک پانڈیا نے ہماری ٹیم کو متوازن کیا ہے۔ وہ ایک بہترین باؤلر، جارح مزاج بلے باز اور عمدہ فیلڈر ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY