عالمی شہرت کی حامل شہزادی ڈیانا کا شمار دنیا کے ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں موت کے بعد زندگی سے زیادہ مقبولیت اور پذیرائی نصیب ہوئی اور یہی شہرت پرنس چارلس کی جلن کا سبب بنی ہوئی ہے۔
پرنس چارلس کی شادی جب لیڈی ڈیانا جیسی خوبصورت خاتون سے ہوئی تب وہ جانتے تھے کہ عوام ان سے زیادہ ان کی اہلیہ کو دیکھنا چاہتی ہے۔
شہزادی ڈیانا نے ہمیشہ عوام کے ساتھ اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ وقت بھی آیا جب شہزادی ڈیانا کی تصاویر اور ان کا ذکر پوری دنیا میں عام ہو گیا جس کی وجہ ان کی متاثر کن شخصیت تھی۔
شہزادی ڈیانا جیسے جیسے عوام میں مقبول ہو رہی تھیں پرنس چارلس خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے، انہوں نے شہزادی کی شہرت سے حسد شروع کر دیا تاہم ان کا یہ حسد ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔
پرنس چارلس کے بارے میں شائع ایک غیر مستند کتابمیں انکشاف کیا گیا ہے کہ پرنس چارلس اپنی بہو کیٹ مدلٹن کی شہرت سے بھی جلنے لگے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے پوتے اور پوتی سے بھی دور ہو گئے ہیں۔
کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ شہزادہ چارلس کیٹ اور ولیم کو عوام میں مقبول ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ ان کی تھوڑی بہت مقبولیت بھی ان سے نہ چھن جائے۔













