کلبھوشن یادیو کی آرمی چیف سے رحم کی اپیل

0
178

بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو نے ایک بار پھر اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کر دی۔
آئی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی نئی ویڈیو جاری کی ہے۔
ویڈیو بیان میں بھارتی جاسوس نے کہا ہے کہ اپنی کارروائیوں پر شرمندہ ہوں، اپنے جرائم کے لیے معافی کا خواہش مند ہوں۔
کلبھوشن یادیونے بتایا کہ اسے کراچی، مکران کی ساحلی پٹی اور اندرون بلوچستان افراتفری پھیلانے کا ٹاسک ملا تھا
بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیوجو بھارت کا حاضر سروس نیوی افسر تھا،جسے را نے پاکستان میں امن وامان کو سبوتاژ کرنے کے لیے پاکستان بھیجا ،جسے پاکستان کی مسلح افواج نے بلوچستان سے رنگے ہاتھوں پکڑا۔
را کے اس حاضر سروس جاسوس نے پاکستان میں را کے لیے کام کرنے کا اعتراف کیا،فوجی عدالت میں ٹرائل پر کمانڈر یادیو نے اپنے ایک ایک جرم کا اعتراف کیااور پھر اسے سزائے موت سنا دی گئی۔
بھارتی را کے جاسوس نیول کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سزائے موت پر رحم کی اپیل کر دی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق کمانڈر یادیو نے اپیل میں ایک بار پھر پاکستان میں تخریب کاری، دہشت گردکارروائیوں اور جاسوسی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
اپیل میں کمانڈر یادیو نےرا کی ان دہشت گردی کی کارروائیوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، املاک کو نقصان پہنچانے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔
را کے جاسوس، دہشت گرد کلبھوشن یادیو نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جان بخشی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کمانڈر یادیو نے فوجی اپیلٹ کورٹ سے بھی سزا کے خلاف اپیل کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
قانون کے مطابق کمانڈر یادیو آرمی چیف سے رحم کی اپیل کر سکتا تھا جو اب اس نے کر دی، اگر آرمی چیف نے رحم کی اپیل مسترد کر دی تو آخری رحم کی اپیل صدر مملکت کو کی جا سکتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی را کے جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے اعتراف پر مبنی ایک اور ویڈیو جاری کر دی گئی ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ بھارت نے پاکستان میں کیا کیا ہے اور کیا کر رہا ہے۔
بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو نے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا حتمی ہدف سی پیک منصوبے کو روکنا تھا۔
اس نے بتایا کہ بلوچستان اورسندھ میں اسے جلال آباد،قندھار اور زہدان کے بھارتی قونصل خانوں سے رقم بھیجی جاتی تھی ، را بلوچستان موومنٹ کے لیے بھی انہی قونصل خانوں کو استعمال کرتی ہے۔
کلبھوشن کے مطابق ہزار ہ اور شیعہ زائرین کی نقل وحرکت مکمل بند کرنے کے لیے انہیں مارا گیا۔
کل بھوشن یادیو نے فرقہ وارانہ فسادات کرانے اور کراچی پولیس کے افسر چوہدری اسلم سمیت اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا بھی اعتراف کرلیا۔
اس نے بتایا کہ 2014ء میں مودی کے اقتدار میں آنے کاامکان پیدا ہوا، بھارتی بحریہ سے مجھے را میں شامل کر لیا گیا، کوڈ نام حسین مبارک پٹیل رکھا گیا، چاہ بہار میں تعیناتی ہوئی، کامیندا ٹریڈنگ کمپنی کے نام سے تجارت کا ڈھونگ رچایا۔
بھارتی بحریہ کے جاسوس کلبھوشن یادیو نے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس سب کا مقصد بلوچ علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں سے ملاقاتیں کرنا تھا تاکہ کراچی، اندرون بلوچستان اور ساحلی پٹی کے علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کویقینی بنایا جاسکے،اسی مقصد کے لیے انیل کمار کے ساتھ الوک جوشی سے ملا اور منصوبہ بندی کی۔
اس نے تسلیم کیا کہ وہ پاک بحریہ اور اس کی تنصیبات کی جاسوسی کے لیے 2005ءاور 2006ء میں2بار کراچی گیا، اس بار کالعدم بی ایل اے کی قیادت سے ملنا تھا اور را کے 30 سے 40 کارندوں کو بلوچستان میں داخل کرانا تھا۔
کلبھوشن یادیو نے را کی مذموم سرگرمیوں کے متعلق انکشاف کیا کہ بلوچستان اور کراچی ریجن میں قوم پرستوں کو رقم، اسلحہ، بارود اور ہتھیاروں سمیت ہر قسم کا تعاون فراہم کرنا تھا اور ہدف تھا عدم استحکام پیدا کر کے سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنا، پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے دہلی اور ممبئی سےہنڈی اور حوالے کے ذریعے بھی رقم پاکستان بھیجی جاتی تھی۔
بھارتی جاسوس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان کے پاکستان مخالف گروپوں کوبھی رقم فراہم کی جاتی ہے ، مہران بیس پر حملے، ریڈار حملے سمیت گیس پائپ لائنوں اور بس اسٹیشنوں پر حملے بھی کیے۔
کلبھوشن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ را فرقہ وارانہ فسادات کرانے اور کراچی پولیس کے افسر چوہدری اسلم سمیت اہم شخصیات کو نشانہ بنانے میں بھی ملوث ہے۔
کلبھوشن یادیو نے انکشاف کیا ہے کہ زہدان میں پاکستانی قونصلیٹ پر فوجی طرز کا حملہ بھی کرنا تھا جس کے لیے ایران میں را کے افسران منصوبہ بندی کر رہے تھے، بھارتی جاسوس نے نیپال سے پاکستان مخالف ویب سائٹ چلانے اور علیحدگی پسند قوم پرستوں کو دہشت گردی کی ترغیب دینے کے لیے مزید سائبر سرگرمیاں بھی شروع کرنے کا منصوبہ تھا

SHARE

LEAVE A REPLY