سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ظفر الحق حجازی کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ ان کے ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور کسی ماتحت افسر کی جانب سے ریکارڈ میں کی جانے والی ہیرا پھیری کا ذمہ دار انہیں نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی جانب سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) پر لگائے گئے ریکارڈز میں ہیرا پھیری کے الزامات کی انکوائری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

گذشتہ روز (30 جون) چیئرمین ایس ای سی پی ظفر الحق حجازی اپنے ادارے کے دیگر افسران سمیت پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے اور انہیں تمام مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں چیئرمین ظفرالحق حجازی نے ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ کے مبینہ الزامات پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘چونکہ انکوائری کا سلسلہ ابھی جاری ہے لہذا میں تمام معلومات عوام کے سامنے نہیں لا سکتا لیکن جیسے ہی انکوائری مکمل ہوجائے گی میں قوم کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کردوں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انسداد منی لانڈرنگ کارروائی اور کمپنیز آرڈیننس 1984 کی دفعہ 263 کے تحت ہونے والی کارروائی دو مختلف معاملات ہیں اور انہیں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیئے’۔

ظفرالحق حجازی نے دعویٰ کیا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ چوہدری شوگر ملز کے ریکارڈ میں چھیڑچھاڑ کی گئی ہے یا اس میں کوئی بےضابطگی موجود ہے لہذا اس کا ذمہ دار انہیں نہیں ٹھہرایا جانا چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ادارے کا سربراہ کسی مخصوص کیس فائل میں پائی جانے والی خامیوں سے آگاہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے ایسی خامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے، اگر ماتحت افسران کی غلطیوں اور بےضابطگیوں کی ذمہ داری ادارے کے سربراہ پر ڈالنے کی مثال قائم کردی جاتی ہے تو ہر ماتحت افسر ایسا ہی کرے گا’۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) چوہدری شوگر ملز کے حوالے سے ایس ای سی پی کی جانب سے ریکارڈ میں کی گئی ہیراپھیری پکڑنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور جلد ہی انہیں سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ نے باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔

تاہم ایس ای سی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ‘وہ ایف آئی اے کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرچکے ہیں جو میڈیا رپورٹ میں بھی سامنے آچکا ہے’۔

یاد رہے کہ متعدد میڈیا رپورٹس میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ایس ای سی پی نے چوہدری شوگر ملز کے خلاف انکوائری کو 2016 میں روکا گیا تاہم ریکارڈز میں تاریخوں کو تبدیل کردیا گیا، جس کی نشاندہی ایف آئی اے اور جے آئی ٹی نے کی۔

دوسری جانب اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ ریکارڈ میں اس تبدیلی کا ذمہ دار کوئی ماتحت افسر ہے یا ایسا ایس ای سی پی چیئرمین کی ہدایات پر کیا گیا۔

12 جون کو جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایس ای سی پی کے گواہان سے پوچھ گچھ میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ ظفرالحق حجازی کا چوہدری شوگر ملز کے خلاف انکوائری رکوانے میں اہم کردار تھا۔

جے آئی ٹی کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق 2011 میں شروع ہونے والی انکوائری 2016 میں ختم کی گئی تاہم ظاہر یہ کیا گیا کہ 2013 میں انکوائری ختم ہوئی اور ایسا ایس ای سی پی چیئرمین کی مرضی سے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، ‘ایس ای سی پی چیئرمین کے احکامات پر عملدرآمد کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی عظیم اکرام نے کیا اور علی عظیم اکرام وہ ہی افسر ہیں جن کا نام چیئرمین ایس ای سی پی نے موجودہ جے آئی ٹی کے رکن کے لیے تجویز کیا تھا’۔

رپورٹ میں یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ چیئرمین کی جانب سے علی عظیم اکرام کی نامزدگی جے آئی ٹی کی تحقیقات کو متاثر کرنے کے لیے ہی کی گئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY