دیوارِ مہربانی ازحمیرا راحت

0
88

وہ تکیے جو کسی کی بے وفائی کج ادائی بے رُخی اور ایسی ہی

بچگانہ باتوں پر بہے اشکوں سے بھیگے ہیں

وہ کپڑے جو دکھوں کے زرد دھاگوں سے بنے ہیں

تعلق کی وہ ٹوٹی کرچیاں جن کو کسی خوش فہم سی اُمید نے

اب تک سنبھالا ہے

کتابیں جن میں رکھے پھول باسی ہیں

مگراک تازہ خوشبو سے مہکتے ہیں

وہ سب الفاظ جو دل پر بڑی چاہت سے لکھے تھے

وہ اب مفہوم کھوتے جا رہے ہیں

محبت قرب کے لمحے جدائی

اور سارے خواب اک صندوق میں رکھ کر

میں اب یہ سوچتی ہوں

ہمارے شہر میں کیا کوئی اک دیوار ایسی ہے

کہ جس کے مہرباں سائے میں یہ سامان رکھ دوں۔۔۔۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY