ہمیں کیا کر نا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چا ہیے۔۔۔۔ شمس جیلانی

0
1031

سورہ النساء کی آیت 160 تا 164تک اللہ سبحانہ نے پہلی امتوں کے اعمال بیان فر ما کر ہمیں اچھی با تیں اور اچھے کام کر نے کا حکم دیا ہے۔وہ کام کیا ہیں جن سے ہمیں بچنا ہے وہ ہماری رہنمائی کے لیئے ہمارے علم میں لا ئے گئے ہیں اور ہمیں نہ کرنے کو فرمایا گیا ہے۔جبکہ جو کر نے کو بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں تا کہ ہم ان سے بچیں اور ان جیسے ہو کر سزا کے مستحق نہ ہو جا ئیں۔؟وہ کام کیا ہیں؟وہ یہ ہیں وہ ظلم کر نے لگے تھے(عربی میں ظلم کے معنی بہت وسیع ہیں اس میں وہ سب افعال آجاتے ہیں جن میں کسی کے بھی حقو ق بشمول اللہ سبحانہ تعالیٰ ہوں ان کے بعد مذہب ہے جو کہ ہر بندے کا ذاتی معاملہ ہے ان کو راہ راست اختیار کر نے سے رو کنا منع ہے۔ سب سے سے بڑا گناہ سود خوری ہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔

دوسری چیز ناجا ئز طریقہ سے دوسروں کا مال کھانا تھا جو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا۔ ان کی سزا کے طور پران پر کچھ حلال چیزیں بھی حرام کر دی گئیں تھیں۔جن کی تفصیل سورہ مائدہ میں فرمان جا ریفر ما کر کے مومنوں کے لیئے حلال کردی گئیں ہیں۔ وہ قرآن میں جا کر دیکھ لی جا ئیں یہ چھوٹا سا مضمون ان سب کو خود میں سمونے کا متحمل نہیں ہو سکتا؟

مختصر یہ کہ یہاں یہ فرماکربات کو ختم کردیا گیا ہے جو ایسا کرتے ہیں وہ کافر ہیں اور ان کے لئے یہاں تو سزا ہے وہ ہے۔ وہاں ان کے لئے درد ناک عذاب منتظر ہے جو قیامت میں سزا یاب ہو کر انہیں الگ سے بھگتنا پڑے گا؟اس کے بعد والی آیت میں فرمایا لیکن ان میں سے جو کامل علم والے ہیں جو مضبوط علم والے ہیں جو پچھلی کتابوں پر اور نبیوں ّپر بھی ایمان رکھتے ہیں اوراب تیرےﷺ اوپر ایمان لائے ہیں نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں زکاۃ ادا کر نے والے ہیں خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں بڑے بڑے اجر (اس روز) عطا فرما ئیں جائیں گے۔

اس کے بعد والی آیت میں فرمایا حضور ﷺ کومخاطب کر تے ہوئے کہ ہم نے تجھے ﷺ بھی دوسرے نبیوں ؑطرح بھیجا تا کہ لوگوں کوخوشخبریاں سنائے اور سزا سے بھی ڈرائے جس طرح اور انبیاّ کرتے تھے تا کہ اتمام حجت ہو جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY