تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو برہان مظفروانی کی آج ساتویں برسی منائی جارہی ہے

0
959

تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو برہان مظفر وانی کی آج ساتویں برسی منائی جارہی ہے۔نوجوان حریت پسند کی شہادت کے بعد بھی بھارت تمام تر مظالم، بدترین تشدد اور قتل و غارت کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت دبانے میں بری طرح ناکام ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق برہان مظفر وانی وہ جواں سال مجاہد جس نے چند برسوں کے اندر تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونک دی۔برہان وانی کی شہادت کو 7 سال بیت گئے مگر بھارتی غاصب افواج تمام تر جبرو ستم ، قتل و غارت، تشدد اور جبرکے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود اُس کی جلائی ہوئی چنگاری کو نہ بجھا سکی۔

حریت رہنماکہتے ہیں ابھی تو یہ تحریک مزید زور پکڑے گی۔ حمید لون نے کہا کہ برہان وانی تحریک آزادی کشمیر کا ایک ایسا سمبل تھا کہ جنہوں نے نوجوانوں کے دلوں کے اندرگھرکیا اس جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے بھارت نے جو ہتھکنڈے اور حربے آزمائے،ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، اس کے باوجود کشمیری نوجوانوں کے حوصلے بلند ہیں برہان مظفر وانی کے مشن کو کسی بھی صورت ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔

حریت رہنما محمد شفیع ڈار نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے فاشسٹ بھارت کے چہرے سے نام نہاد جمہوریت کا نقاب نوچ دیا ہے،برہان مظفر وانی کی شہادت جو ہے اس نے ہندوستان کی جمہوریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا دنیا مین ظلم زیادہ دیر تک نہیں رہتا ہندوستان ایک فسطائی ملک بن گیا ہے اور دنیا کو باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ نہیں میں ایک جمہوری راہ پر ہوں یہ سب دھوکا ہے۔

بھارت نے برہان وانی سمیت ہزاروں آزادی پسندوں کو شہید تو کر دیا مگر کشمیریوں کے جذبہ آزادی پر نہ تو کوئی فرق پڑا نہ ہی تحریک کسی طرح کمزور پڑی۔

Published on: 9 Jul 2017

مقبوضہ کشمیر میں نئی جدوجہد آزادی کے بانی شہید برہان مظفروانی کی برسی کے دوسرے روز بھی وادی میں کشیدگی برقرار ہے۔ قابض فوج نے شہید برہانی وانی کے آبائی گاؤں ترال کو نوگو ایریا بنارکھا ہے۔ کرفیو اور سختیوں کے باوجود ہزاروں افراد احتجاج کررہے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں آج بھی مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے۔ قابض فوج نے حریت کمانڈر برہان وانی کی برسی پر مظالم کی انتہا کردی۔ ترال میں برہان کے والد مظفر وانی کو بیٹے کی قبر پر جانے سے روک دیا گیا اور گھر میں دعائیہ تقریب کے سلسلے میں لگے ٹینٹ بھی اکھاڑ دیئے گئے۔
بھارتی فوج وادی بھر میں نکالی گئی ریلیوں کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ گھروں سے نکلنے والے کشمیریوں کو بھارتی فوج تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی فوج نے وادی کو چھاؤنی میں بدل دیا ہے۔ آج بھی مختلف اضلاع میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ حریت رہنماؤں کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔

بھارتی کشمیر میں مارے جانے والے نوجوان عسکریت پسند برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے موقعے پر ہفتے کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔

پاکستانی کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں بھارتی کشمیر میں فوج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ایک درجن سے زائد عسکری تنظیموں کے اتحاد، ‘متحدہ جہاد کونسل’ کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی، جس میں متحدہ جہاد کونسل کی رُکن تنظیموں کے سربراہان اور نمائندوں کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین نے کی۔

ریلی کے شرکا نے برہان وانی کی تصویریں اور کالعدم حزب المجاہدین کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، سید صلاح الدین نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ”وہ
کشمیریوں کو ٹھوس عسکری مدد فراہم کرے”۔

بقول اُن کے، ”اگر بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرے اور پاکستان اور کشمیر کی آزادی پسند قیادت، جو بنیادی فریق ہیں، ان کی فریقانہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خودارادیت کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کرے، تو کشمیری قیادت اُسکا خیر مقدم کریگی”۔

ریلی سے کالعدم جماعت الدعوہ کے راہنما، عبدالرحمٰن مکی نے بھی خطاب کیا۔
خیال رہے کہ برہان مظفر وانی کالعدم حزب المجاہدین کے نوجوان عسکریت پسند راہنما تھے، جنہیں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت مخالف کارروایوں کو منظم کیا، وہ گزشتہ برس بھارتی فوج کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں مارے گئے تھے، جس کے بھارتی کشمیر میں بھارت مخالف احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY