امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ایوانِ نمائندگان نے ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد اب یہ معاملہ سینیٹ میں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے پہلے صدر گزرے ہیں جنہیں دو بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت پر کانگریس کی تحقیقات روکنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات پر 2019 میں ٹرمپ کا مواخذہ کیا گیا تھا۔ لیکن امریکی سینیٹ نے گزشتہ سال کے آغاز میں اُنہیں بری کر دیا تھا۔
البتہ اس سال چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اپنے حامیوں کو اُکسانے کے الزام میں ٹرمپ کو ایک بار پھر مواخذے کا سامنا ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کے کیپٹل ہل پر حملے کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی اور تشدد کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اراکینِ کانگریس کو ان کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔
یہ ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی تھی جب اراکینِ کانگریس موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی باضابطہ توثیق کے لیے جمع تھے۔
سینیٹ میں مواخذے کی کامیابی کے لیے ایوان کے دو تہائی اراکین کا اس کے حق میں رائے دینا ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 100 رکنی سینیٹ کے کم از کم 67 ارکان کو مواخذے کی حمایت کرنا ہوگی جو کہ ممکن نظر نہیں آتا۔
اس لیے امکان یہی ہے کہ سینیٹ ٹرائل میں اس بار بھی سابق صدر مجرم قرار نہیں پائیں گے۔ البتہ سینیٹ میں سادہ اکثریت رکھنے والی ڈیموکریٹ پارٹی کی کوشش ہے کہ مواخذے کے لیے زیادہ سے زیادہ ری پبلکن ارکان کی حمایت حاصل کی جائے۔
سابق صدر ٹرمپ کے وکلا کا اصرار ہے کہ اب اُن کے مؤکل کا مواخذہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ اب عہدے پر نہیں رہے بلکہ ایک عام شہری ہیں۔
ٹرمپ کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے نہیں اُکسایا تھا بلکہ اُنہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج بدلنے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔
امریکی آئین کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوتی ہے جب کہ سینیٹ میں آرٹیکلز آف امپیچمنٹ یعنی الزامات کی فہرست پیش کی جاتی ہے جس کے بعد اس کی باقاعدہ سماعت ہوتی ہے۔
ٹرائل کے لیے ایوانِ نمائندگان نے اپنے نو اراکین کو امپیچمنٹ مینیجرز مقرر کیا ہے جو سینیٹ میں ہونے والی کارروائی کے دوران سابق صدر کے خلاف دلائل دیں گے۔
سابق صدر ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کو بھی دفاع کا برابر موقع دیا جائے گا اور صدر کے وکلا کو بھی جوابی دلائل کے لیے امپیچمنٹ مینیجرز کے برابر ہی وقت ملے گا۔
عام طور پر امریکی چیف جسٹس سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کی صدارت کرتے ہیں۔ لیکن چوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں لہذٰا اس بار اجلاس کی صدارت ریاست ورمونٹ سے منتخب ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹرک لیہی کریں گے جو سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے سب سے سینئر سینیٹر ہونے کے ناتے سینیٹ کے غیر رسمی سربراہ ہیں۔
سینیٹ میں ٹرائل مکمل ہونے پر تمام آرٹیکلز آف امپیچمنٹ یعنی الزامات پر ووٹنگ ہو گی اور تمام 100 سینیٹر باری باری اپنی نشست پر کھڑے ہو کر سابق صدر کو مجرم قرار دینے یا نہ دینے سے متعلق اپنی رائے دیں گے۔
اس بار سابق صدر کے خلاف آرٹیکل آف امپیچمنٹ صرف ایک الزام ‘بغاوت پر اکسانے’ پر مشتمل ہے۔












