سیہون شریف میں عدالت میں انصاف مانگنے کے لیے آئی لڑکی سلمی بروہی سے چیمبر میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سیہون مظہر نائچ کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں سول جج امتیاز بھٹو کو نامزد کیا گیا۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زیادتی) اور 506 (ہراساں) کے تحت سیہون تھانے میں درج کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی ایس پی سیہون، بشیر کونہارو نے لاڑکانہ کے دارالامان میں لڑکی سلمی بروہی کا بیان رکارڈ کرکے رپورٹ اعلی حکام کے حوالے کی تھی جس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات ملے اور پولیس نے مقدمہ درج کیا۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کا ریپ کرنے پر انہیں معطل کردیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو معطل کر کے فوری طور پر ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کے خواہشمند جوڑے کو پولیس نے 13 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ سیہون پولیس میں شکایت درج کرانے والی لڑکی کو مجسٹریٹ نے اپنے چیمبر میں بلا کر وہاں موجود تمام اسٹاف اور خواتین پولیس اہلکاروں کو جانے کا کہا اور پھر لڑکی کا ریپ کیا۔
ذرائع کے مطابق لڑکی کو طبی جانچ کے لیے سیہون میں سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لایا گیا تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جامشورو کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں اور اس بارے میں ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا۔
گزشتہ روز خاتون کی ابتدائی طبی رپورٹ سیہون پولیس کو موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خاتون کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا نشان موجود نہیں تھا تاہم کیمیکل معائنہ کے بعد ہی زیادتی کی تصدیق ہوسکے گی۔
سیہون پولیس کو موصول طبی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’18 سالہ لڑکی کے جسم پر کسی تشدد یا خراش کا کوئی نشانہ نہیں ملا’۔
طبی رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘لڑکی کنواری نہیں تھی تاہم طبی معائنے میں یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ لڑکی کو (عدالت میں) ریپ کیا گیا یا نہیں’۔
اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ ‘کراچی میں کیمیکل معائنہ کے بعد ہی اس امر کی تصدیق ہوسکے گی’۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں’۔












