پی ایس 114 ضمنی انتخاب: پیپلپز پارٹی کی فتح

0
75

پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی نے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 کراچی کے ضمنی انتخاب کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کامران ٹیسوری کو 5734 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر میدان مارلیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز تیسرے نمبر پر رہی۔

پی ایس 114 کراچی کے ضمنی انتخاب کے لیے پی پی پی کے امیدوار سنیٹر سعید غنی، جماعت اسلامی کے امیدوار ظہیر جدون، پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار عل اکبر گجر اور پی ٹی آئی کے انجینئر نجیب ہارون کے درمیان مقابلہ تھا۔

غیرحتمی اور غیرسرکار نتیجے کے مطابق سعید غنی نے پیپلزپارٹی کے سعید غنی نے 23 ہزار 840 ووٹ حاصل کر کیے۔

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سعید غنی کو ضمنی انتخاب میں کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ 2018 کا انتخاب بھی ہم جیتیں گے.

قبل ازیں اس نشست کے لیے سخت مقابلے کی توقع کی جارہی تھی کیونکہ پی پی پی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے بھرپور مہم چلائی تھی جبکہ مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینیٹر مشاہداللہ خان نے مہم میں حصہ لیا تھا ان کے علاوہ کوئی مرکزی رہنما مہم میں شریک نہیں ہوا تھا۔

خیال رہے 2013 کے عام انتخابات میں اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار عرفان اللہ مروت نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ایم کیو ایم کے امید وار رووف صدیقی نے نتیجے کو چیلنج کیا تھا اور جولائی 2014 میں الیکشن ٹریبیونل نے حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا۔

بعدازاں عرفان اللہ مروت نے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم اعلیٰ عدالت نے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 میں رجسٹر ووٹوں کی تعداد 1 لاکھ 93 ہزار ہے جبکہ حلقے میں موجود تمام 92 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا جارہا تھا۔

ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری نے 18 ہزار 106 ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم نے اس نشست کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی اور اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی تھی دوسری جانب غیرحتمی نتیجے کے بعد کارکنان آپس میں الجھ گئے۔

مسلم لیگ نواز کے علی اکبر گجر 5ہزار 353 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی اپنے امیدوار نجیب ہاروں کی مہم کے لیے یہاں آئے تھے اور عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی تھی تاہم وہ 5 ہزار 98 ووٹ حاصل کر کے چوتھے نمبر پر رہے جبکہ انھیں حلقے کے سابق امیدوار عرفان اللہ مروت کی حمایت بھی حاصل تھی۔

نجیب ہارون نے ضمنی الیکشن میں اپنی شکست کو تسلیم کرلی۔

جماعت اسلامی کے امیدوار ظہیر جدون کو ایک ہزار 661 ووٹ حاصل کیے۔

قبل ازیں پولنگ کے عمل کے دوران امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے حلقے میں 1 ہزار 1 سو پولیس اہلکار جبکہ 2 ہزار رینجرز اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے اس کے علاوہ حلقے میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی اور پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی

SHARE

LEAVE A REPLY