امریکہ کے تجارت سے متعلق دفتر کے نمائندے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن جرنلائزڈ سسٹم آف پریفرینسز (جی پی ایس) یعنی عمومی ترجیحات کے نظام، کے تحت بھارت اور ترکی کو دی گئی ترجیحی تجارتی حیثیت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ وہ اس حیثیت کے لیے ضروری معیار پر پورا نہیں اترتے۔ “
بیان کے مطابق بھارت یہ یقین دہانی کروانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی مارکیٹ تک درکار رسائی دے گا جب کہ ترکی اب کافی حد تک اقتصادی طور پر ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔
امریکہ کے ‘جی ایس پی’ پروگرام کے تحت بعض ممالک سے متعدد مصنوعات بغیر کسی محصولات کے امریکی منڈیوں میں آ سکتی ہیں اگر یہ ممالک اس کے درکار طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں جن میں امریکہ کو اپنی مارکیٹ تک مناسب اور مساوی رسائی دینا بھی شامل ہے۔
امریکی نمائندے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے” کئی تجارتی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کی تجارت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ “
دوسری طرف بیان کے مطابق 1975ء میں ترکی کو ‘جی ایس پی’ کے تحت تجارت میں ترجیحی حیثیت ملنے کے بعد سے نمایاں اقتصادی ترقی کی ہے اور ترکی نے اس پروگرام سے مطلوبہ استفادہ کر لیا ہے۔
دریں اثنا ترکی کی وزیر تجارت رخسار پیکن نے کہا ہے کہ امریکہ کے طرف سے ترکی کی ترجیحی تجارتی شراکت دار کی حیثت کو ختم کرنے کا مجوزہ فیصلہ ان کے بقول نیٹو کے دو اتحادیوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کو فروغ کرنے دینے کی کوششوں کے برعکس ہے۔
پیکن نے منگل کو ٹوئٹر پرکہا ” یہ ٖفیصلہ باہمی تجارت کو 75 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے خلاف ہے۔۔۔یہ فیصلہ امریکہ کے چھوٹی صنعتوں اور انٹر پرائزز پر منفی طور پر اثر انداز ہو گا۔ “
ترکی کی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ ” ہم پھر بھی امریکہ کے ساتھ باہمی تجارت کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے جو ہمارا اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔”













