ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 28

1
1897

مالی کہا کرتی تھیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کوئی اس بات پر یقین کرے یانہ کرے کہ ہمیں اپنے اعمال کے دکھ سکھ خود ہی بھوگنے پڑتے ہیں۔۔۔ کبھی اسی جنم میں‌ ، کبھی کسی اور جنم میں کسی اور روپ میں۔۔ اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں ہماری غلطیاں ہماری نسلوں کو بھگتنی پڑتی ہیں ۔۔ ہماری نسلیں ہم ہی تو ہیں ۔۔۔ ہماری ہی روحیں ہیں جو نسل در نسل روپ بدل کر آتی رہتی ہے اور پرانے قرض چکاتی رہتی ہیں ۔۔۔ لیکن ہم جس روپ اور نام کے ساتھ ہیں‌ وہ ایک ہی بار کے لئے دنیا میں آئے ہیں ۔ جیسے میں نگہت نسیم ہوں اور ایک ہی بار کے لئے ہوں ۔۔۔ میں‌ تمہاری ہی طرح‌ ایک روح‌ ہوں لیکن تم جیسی نہیں ہوں ۔ اس لیئے کہ ہم سب کے سفر اور ٹاسک الگ الگ ہیں۔

میرے دوستو !
روح کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔ یہ تو بس روحانی روشنی کا ایک چھوٹا، مابعد الطبیعاتی ، شعوری نقطہ ہے۔ روح وہ روشنی نہیں ہے جو چاند ستاروں سے آتی ہے بلکہ یہ ہمارے شعور، طاقت اور خوبیوں کی روشنی ہے ۔ ہماری روحیں منفرد اور ابدی ہیں۔۔ روح کے شعور کا مطلب ہے نفس کے تمام پہلوؤں سے ہم آہنگ ہونا۔ روح کے شعور کو جاننے کی کوشش یہ ہے کہ روح کے اندر پیدا ہونے والے تمام اچھے اور برے خیالات کے سامنے غیرجانبدار ہو کر رہا جائے اور اپنی اصل منزل جو ابدی پاکیزگی، امن، طاقت، محبت اور خوشی ہے ۔۔اس پر توجہ مرکوز رکھیں۔

میں نے کہا نا کہ بیماری تین طرف سے حملے کرتی ہے ۔۔ جسمانی ، جذباتی اور روحانی ۔۔ اس لیئے اپنی روح کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسم کی حفاطت ۔ تم سب جانتے ہو نا کہ جسم روح کا گھرہوتا ہے ۔ دونوں‌ اجڑ جائیں تو جذباتی تکالیف نفسیاتی عارضے میں بدل جاتی ہیں ۔۔ بچپن کے صدمات ، بدسلوکی، جنگ، تنازعات روح کو زخمی کر دیتے ہیں‌ ۔۔قوت مدافعت کو کم کر دیتے ہیں جو بعد میں‌ کئی بیماریوں کی وجہ بن جاتے ہیں ۔

خود شناسی کے لیے ہمیں‌ اپنی روح کو دریافت کرنا بہت ضرروی ہے ۔۔ تو چلیں ایک بار پھر راج کے بہانے اپناپرانا سبق یاد کر لیتے ہیں ۔۔ سب محویت سے سن رہے تھے۔

1. پاکیزگی (Purity)
پاکیزگی روح‌ کی سب سے پہلی ضرورت ہے ۔ یہ وہ انسانی جوہر ہے جو دنیا میں توازن ، قدر اور امن کو بحال رکھتا ہے ۔ پاکیزگی صرف جسمانی نہیں‌ بلکہ ہمارے ذہن، قول اور فعل میں پاکیزگی ہو۔ ہم عموماً تقدس کو جسم کی تقدیس سمجھتے ہیں۔ انسان صرف اسی صورت میں ولی کہلاتا ہے جب اس کے خیالات بھی خالص ہوں۔ خیالات ہمارے ذہن کی تخلیق ہیں۔ لہٰذا اگر خیالات خالص ہوں گے تو جو الفاظ ہم بولتے ہیں وہ بھی با معنی اور تہہ دار ہوں گے۔ مقدس جسم کے ساتھ خیالات بھی مقدس ہو جائیں تو روح‌ شعوری روشنی کا ایک نقطہ اور بلند پرواز ہو جاتی ہے ۔

کبھی سوچیئے وہ کیا ہے جو اللہ پاک کی پسندیدہ ہستیوں‌ کے پاس ہے اور عقیدت مندوں کے پاس نہیں؟
میرے پیارو ۔۔۔
وہ یہی پاکیزگی ہے جو روحانیت کے راستے پر پاکباز انسان کی شخصیت اور شرافت کی وضاحت کرتی ہے۔ کسی کی پاکیزگی کا اندازہ اس کے کردار اور طرز عمل سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسی روح جو کبھی بھی مادی چیزوں یا دوسرے لوگوں کی دنیاوی مراعات کی طرف راغب نہیں ہوتی ۔۔۔۔ جو معمولی معاملات کو سلجھانے کے لئے اعلیٰ عہدے والوں کی توجہ نہیں چاہتے ، وہ کسی دوسرے کی چیز کو قبول کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ اگر کبھی غور کریں‌تو پتہ چلتا ہے ان کا برتاؤ اپنے مکمل ہونے اور کسی سے کچھ نہ چاہنے کی یقین دہانی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے الفاظ بہت کم ، مگر بہت میٹھے اور قیمتی ہوتے ہیں۔ ایسی روحیں کبھی بھی دوسروں کے عیب یا کمزوریوں کو نہیں دیکھتیں۔ وہ ان خامیوں پر توجہ نہیں دیتے جو کسی کی بُری عادات، خصلتیں اور کمزوریاں ہوتی ہیں‌۔ وہ ان کے لئے بھی محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔

ان سے مل کر ایک محسن کی صفات کا تجربہ ہوتا ہے۔ ہم ان کی صحبت میں سکھ اور سکون پاتے ہیں۔جب کوئی پاکیزگی کے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے تو وہ مصیبت زدہ لوگوں کے لیے سہارا بن جاتا ہے۔ ایسی روح کی روحانی خوبیاں دوسروں کو ان کے دکھ بھلانے میں مدد دیتی ہیں۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں تکالیف بڑھ رہی ہیں، ہم دوسروں کی مناسب اور جلد خدمت صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب ہم روحانی طور پر خود کو اس حد تک مالا مال کر لیں کہ انہیں ہماری آنکھوں سے بھائی چارے کا احساس ہو۔ میر ایقین کیجئے دوستو جب ہمارے با اخلاق رویے کسی بھی جگہ کو پرنور بنا سکتے ہیں تو کیا ہم اپنے خالص شعور کے ذریعے کمزور روحوں کو بااختیار نہیں بنا سکتے ؟ ۔۔ سوچیئے تو جب ہم اپنے آپ اور دوسروں پر رحم کریں گے، تو ہم غیر مشروط محبت کرنے والے اور تعاون کرنے والے بن جائیں گے۔۔ لوگ ہمیں زمین پر چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح دیکھیں گے۔۔۔ میں تم سب کو ستارہ بنتا دیکھنا چاہتی ہوں‌ ۔۔

2. امن (Peace )
آج ہر انسان زندگی میں سکون کی تلقین کر رہا ہے۔ لیکن ہمیں سکون کہاں سے ملے گا؟ درحقیقت امن ہماری روحوں کا فطری تقاضا ہے۔ سوچیں زرا ، اگر ہمارے ذہن میں کوئی بوجھ، کوئی سوال اور کوئی فضول خیال نہ ہو تو وہاں‌ کیا ہوگا؟ ۔۔ جی بلکل درست ۔۔ ہمارے زہن میں صرف خاموشی رہ جائے گی ۔۔پر یہ خاموشی بہت کچھ واضح کرے گی اور بہت سارے ان کہے سوالوں کے جواب دے گی ۔۔تدبر اور بردبار بنائے گی ۔۔ ۔۔انجان سفر آسان ہونے لگیں گے ۔۔۔ یہی خاموشی روح کا امن ہے جسے حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے خیالات کو صحیح سمت کی طرف لے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم ذہن کو کبھی نہیں‌سمجھا سکتے کہ یہ سوچیں اور یہ نہ سوچیں۔ کیونکہ یہی تو اس کا کام ہے ، اور وہ کرتا رہے گا ۔۔ہمارا کام صرف اپنے خیالات کو مثبت رکھنا ہے ۔۔ دماغ کی یہ تربیت مراقبہ کرنے سے ممکن ہو سکتی ہے ۔

3. محبت (Love)
ہمارا خدا محبت کا سمندر ہے۔ محبت روح کا فطری احساس ہے۔ اگر ہم تجربے کے لئے 10 لوگوں سے ایک ہی سوال پوچھیں کہ ‘محبت کیا ہے’ تو آپ کو حیرت ہو گی کہ سب کے جواب منفرد اور انوکھے ہونگے کیونکہ ہر کسی کے لیے محبت کے احساس کی تعریف مختلف ہوتی ہے۔ لیکن روحانی اور فطری محبت وہ ابدی احساس ہے جو ہمارا اپنے خدا اور اس کی مخلوق کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ وہ محبت جو جسم ، مذہب ، ذات ، رنگ اور نین نقش کی خوبصورتی سے آگے نکل جاتی ہے ۔۔ صرف وہی محبت جان پاتی ہے کہ ہر نفس ایک روح ہے ۔۔ روشنی کا نقطہ ہے ۔۔ جو یہ بتاتا ہے کہ ہم سب برابر اور منفرد ہیں۔جب خود شناسی حاصل ہو جاتی ہے، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم سب جاندار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور دنیا، درحقیقت ایک بڑا سا خاندان ہے اور ہم اس کا حصہ ہیں ۔۔۔ پھر محبت قدرتی طور پر ہر سمت پھیل جاتی ہے ۔۔ یہ پہاڑ‌۔۔پتھر ۔۔ ریت ۔۔درخت ۔۔ پھل پودے ۔۔آگ ۔۔ ۔خلا ۔۔ جانور ۔۔انسان ۔۔۔ ہم سب جاندار اسی محبت کے پھیلاؤ میں رہتے ہیں۔

4. خوشی (Happiness)
خوشی کا انحصار حصول پر ہے ۔۔ جیسے ہم نے کیا حاصل کیا یا سفر حیات میں‌کمایا۔۔ ؟‌
تو کیا آپ سب اپنے سفر حیات سے خوش ہیں؟
اگر کسی کی زندگی میں سکون اور محبت ہے تو کہا جائے گا کہ وہ خوش ہے۔ بلاشبہ خوشی ایک فطری احساس کے سوا کچھ نہیں ہے جب ہماری زندگی میں امن اور محبت بھرے رشتے ہوں تو خوشیاں‌ ہی خوشیاں‌ ہوتی ہیں‌۔ پر ۔۔۔ اس کے علاوہ بھی ایک گہری روحانی خوشی ہے جس کا ادراک بہت ضروری ہے ۔۔اور وہ ہے اپنے وجود کے ہونے کی خوشی ۔ صرف اس لیے کہ ہم اس دنیا میں موجود ہیں ۔۔ زندہ ہیں‌۔۔ سوچیئے تو !‌ کس قدر خوش کن احساس ہے کہ ہم زندہ ہیں اور ہمارے پاس مہلت جیسی نعمت ہے ۔ ہمیں‌ اس بات کو کوئی شکایت کرنے سے پہلے ضرور سوچنا چاہیئے۔

5. نعمت (Bliss)
سوچیئے ایسی کوئی خوشی ہے جو کسی بھی دنیاوی خوشی اور غم کے احساس سے بالاتر ہو ۔۔ اگر ہے تو وہ کیسی ہو گی ۔۔ یقیننا اعلی ترین خوشی ہو گی ۔۔ بس خوشی کا یہ اعلی معیار ہی نعمت ہے ۔ اس سعادت کو پانے کے لیے اپنی عقل کو خدا کے سپرد اور خود کو نتائج سے آزاد کردینا چاہیئے ۔۔ میرے جنت مکانی اباجی اسی مقام کو کہا کرتے تھے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمارے فیصلے کرنے والے ہمارے بڑے موجود ہیں‌ ۔۔ سوچتی ہوں‌ یہ کیسا عظیم احساس سپردگی ہو گا جس کی نعمت نصیب والوں‌کو میسر آتی ہے ۔

6. اختیارات (Power)
میرے دوستو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم اتنے با اختیار کبھی بھی نہیں‌ہو سکتے کہ اپنے ارد گرد کے حالات بدل سکیں‌ ۔۔۔ ہم دوسرے لوگوں کو بھی کبھی نہیں بدل سکتے۔ ۔۔تو پھر ایسا کیا ہے جو ہم بدل سکتے ہیں‌۔۔۔ تو میرے پیارو ۔۔۔ صرف ایک چیز ہے جسے آپ اور میں‌ بدل سکتے ہیں اور وہ ہم خود ہیں ۔۔ یعنی ہم صرف خود کو بدل سکتے ہیں‌۔ میرا یقین کیجئے روح‌ کی دریافت کا یہ تنہا سفر ہمارے لئے ایک عظیم سفر ہوجائے گا ۔۔۔ اپنی روح کی طاقت تو دیکھئے ۔۔۔ کہ آپ اکیلے کیا کیا بدل سکتے ہیں ۔

پیچھے ہٹنے کی طاقت ۔۔۔۔ پیچھے ہٹنے اور اپنے آس پاس کی دنیا سے الگ ہونے کی صلاحیت ہے۔
پیک اپ کرنے کی طاقت ۔۔۔ چیزوں کو ختم کرنے اور فضول سوچ کو روکنے کی صلاحیت ہے۔
ایڈجسٹ کرنے کی طاقت ۔۔۔ دوسروں کی موجودگی، خیالات اور خواہشات کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔
تفریق کرنے کی طاقت ۔۔۔۔ ٹھیک کو ٹھیک پہچاننے اور سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کی صلاحیت ہے۔
فیصلے کی طاقت ۔۔۔ اپنے آپ میں اور دوسروں میں انتخاب، فیصلوں اور اعمال کے معیار کو جانچنے کی صلاحیت ہے۔
سامنا کرنے کی طاقت ۔۔۔۔ بیرونی اور اندرونی رکاوٹوں، آزمائشوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ان کو حل کرنے کی صلاحیت ہے۔
تعاون کرنے کی طاقت ۔۔۔ دوسروں کی خدمت میں توجہ ، وقت ، تجربہ اور حکمت دینے اور ان کے شانہ بشانہ کام کرنے کی صلاحیت ہے۔
برداشت کرنے کی طاقت ۔۔۔ بیرونی اور اندرونی واقعات کا بغیر متاثر ہوئے مثبت جواب دینے کی صلاحیت ہے

جیسے جیسے ہم اپنی روحانی طاقتوں کو استعمال کرنا سیکھتے ہیں، ہم اپنے آپ میں مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ کسی بھی سپر ہیرو کی طرح، ہم صحیح وقت اور صحیح صورتحال میں صحیح طاقت کا استعمال کرنے کا ہنر سیکھ جاتے ہیں۔۔ اور کیسے بھی حالت ہوں‌ خوشی خوشی قبول کر لیتے ہیں‌۔۔ یہی خوشی مقام رضا ہے ۔

7. علم (knowledge)
حقیقی علم تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ یعنی خالق اور اس کی تخلیق، یعنی خدا اور دنیا کے بارے میں حقیقت کو جاننا روحانی علم کہلاتا ہے۔ سوچیئے مخلوق کے بارے میں سچ کون بتا سکتا ہے۔۔۔ یقیناً خالق خود ہی بتا سکتا ہے ۔ جیسا ہمارا رب ہمیں جانتا ہے کوئی اور نہیں جان سکتا ۔ روح جتنی زیادہ علم سے معمور ہوتی ہے، اتنی ہی خالص اور طاقتور ہوتی جاتی ہے ۔ ہم سب ایسی ہی پاکیزہ، پرامن، خوش مزاج، محبت کرنے والی، اور طاقتور روحیں ہیں‌۔۔ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا تا کہ ہم اپنے رب کو پہچان سکیں۔ اسی لئے تو مولائے کائینات علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جس نے خود کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔

میرے عزیز دوستو !
ہمیں شکر گزار روحوں میں‌شامل ہونا ہے کہ شکرگزاری ہمیں منفی ہونے سے بچائے رکھتی ہے ۔۔ ہمیں‌ غمگساری اور ہمدردری کاہنر سکھاتی ہے ۔۔ اور شکر گزاری ہونےکے لئے ہمیں فطرت سے جڑنا ہوگا ۔۔۔ ہمیں اپنے خالق کی ہر مخلوق سے پیار اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کی حفاظت کرنا ہو گی۔
کریں‌گے ناں ہم سب ۔۔۔ سب مسکرا رہے تھے ۔۔ اور یقین ان کی آنکھوں میں‌قندیل کی طرح‌چمک رہاتھا ۔

جبھی ڈاکٹر نسیم اور میں لاکمبہ باغ جایئں گے ۔۔۔ جورجینا نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا ۔۔۔ فطرت کے نظاروں میں کچھ دیر بیٹھیں گے ۔

کیوں نہیں ضرور ۔۔۔ یہاں سے پندرہ منٹ‌ ہی کی تو ڈرایئو ہے ۔۔ سب اتنی محویت سے سن رہے تھے کہ کھانا بھی ٹھنڈا ہو گیا جو جورجینا نے ہم سب کے لئے منگوایا تھا ۔۔۔ پر ہم سب نے مل کر بہت مزے سے کھایا ۔۔ سب کااصرار تھا کہ میں‌انہیں‌ چھ جون کو ہونے والے آپریشن کے بارے میں‌بتاؤں‌ لیکن بہت دیر ہوجاتی سو میں نے ان سے وعدہ کر لیا کہ گھر پہنچ کر پہلی فرصت میں انہیں ای میل کرونگی اور اپنے آپریشن کی تفصیل بھی لکھونگی ۔۔

یوں‌ تیین بجے کے قریب میرے یونٹ‌ کے سٹاف نے مجھے دعاؤں والا کارڈ‌ اور بہت حسین پھولوں والا گلدستہ دیتے ہوئے محبت کی نمی میں واپس آنے کے وعدے کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ۔۔

ہمارے ساتھ ایلکس بھی یونٹ‌ سے باہر آگئی ۔۔ میں ایلکس کے نئے گھر کے لئے تحفہ لائی تھی جو جورجینا کی گاڑی میں ہی رہنے دیا تھا ۔۔ اسے دینا تھا ۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. Awesome…….❤::Marvellous❤
    You are a very keen observer and shows a high level of sensibility.No doubt you have a great experience and knowledge in your field.
    forever love and take care of you dear.

LEAVE A REPLY