لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوگئی

0
592

برصغیر پاک و ہند کے لیجنڈ اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کی نماز جنازہ ممبئی میں ادا کی گئی جس میں صرف مخصوص لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی جس کے بعد ممبئی میں ہی انکی تدفین عمل میں آئی

دلیپ کمار کی سرکاری اعزازات کے ساتھ تدفین کی گئی ہے جبکہ ان کی تدفین میں کورونا ضابطہ کار کے تحت صرف 20 افراد شریک ہوئے۔

دلیپ کمار کی تدفین میں امیتابھ بچن بھی شریک ہوئے۔

دوسری جانب دلیپ کمار کی رہائش گاہ پر تعزیت کیلئے بڑی تعداد میں بالی وڈ شخصیات پہنچی تھیں جن میں ان کے منہ بولے بیٹے شاہ رخ خان بھی شامل ہیں۔

دلیپ کمار کے نام سے مشہوریوسف خان1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے اور ان کا آبائی گھر آج بھی پشاور میں موجود ہے جسے صوبائی حکومت نے قومی ورثہ قرار دیا اور اسے عجائب گھر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شہنشاہ جذبات کا لقب پانے والے دلیپ کمارکو انڈین فلم کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جب کہ انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے 1998 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

دلیپ کمار 1940 سے 1960 کی دہائی میں بھارتی سینما پر چھا ئے رہے، انہوں نے 65 سے زائد فلموں میں کام کیا، ان کی مشہور فلموں میں دیوداس، سنگ دل، امر، آن، انداز، نیادور، کرما اور مغل اعظم شامل ہیں۔

دلیپ کمار کا انتقال 98 برس کی عمر میں ہوا

بھارت میں عالمی وبا کورونا کی خراب صورتحال کے باعث لیجنڈ اداکار کی نماز جنازہ میں صرف مخصوص افراد کو ہی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق دلیپ کمار کی نماز جنازہ میں صرف 20 افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی جائے گی، چند قریبی افراد ہی یوسف خان کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ مہاراشٹرا ادھے ٹھاکرے نے اعلان کیا ہے کہ دلیپ کمار کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیجنڈ اداکار دلیپ کمار 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انہوں نے 65 سے زائد فلموں میں لازوال کردار نبھائے۔

ایک اور عہد تمام، یوسف خان عرف دلیپ کمار خالق حقیقی سے جا ملے، وہ طویل عرصے سے ممبئی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں سانس کا مرض لاحق تھا۔ ان کی وفات کی اطلاع ترجمان فیصل فاروقی کی جانب سے سوشل میڈیا پر دی گئی، یہ جانکاہ خبر سنتے ہی دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح غم و اندوہ میں ڈوب گئے۔

یوسف خان گزشتہ 6 سالوں کے دوران گردے کی تکلیف اور نمونیا کے سبب کئی مرتبہ ہسپتال داخل اور ڈسچارج ہوتے رہے۔ ان کو 6 جون کو سانس لینے میں مشکل کے سبب ہسپتال داخل کروایا گیا جہاں علاج معالجے سے ان کی حالت بہتر ہو گئی۔ ڈاکٹرز نے بھی ان کی صحت تسلی بخش قرار دی، انہیں 11 جون کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ برس کورونا لاک ڈاون کے سبب انہوں نے گھر پر ہی قرنطینہ کر لیا تھا۔

لیجنڈ اداکار 11دسمبر1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے۔ ان کوحکومت پاکستان کی طرف سے 1998 میں نشان پاکستان عطا کیا گیا جبکہ بھارتی فلم کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے فلم انڈسٹری پر 50 سال سے زائد عرصے تک راج کیا۔ دل کو چھو لینے والی اداکاری کے سبب انہیں شہنشاہ جذبات کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، ان کی معروف فلموں میں دیوداس، مغل اعظم، گنگا جمنا، رام اور شیام، نیا دور، مادھومتی، کرانتی اور ودھاتا سمیت دیگر شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY