سوگ میں ڈوبی ہے دنیا،اب فضا ہی غم کی ہے
موت اِک عالِم کی بے شک، موت اِک عَالَم کی ہے۔
علامہ طالب جوہری۔وہ ساری زندگی علم کے طالب اور نایاب کتابوں کےجوہری رہے۔
تحریر: سید ظفر معین بلے
علامہ طالب جوہری کی زندگی کا آفتاب بھی بائیس جون کو غروب ہوگیا۔
بلاشبہ اس دنیا میں جو آیا ہے ، اس نے جانا ہے،اور طالب جوہری بھی چلے گئے۔وہ محض ایک شخصیت تھے ہی نہیں ، ان کی ذات میں بہت سی شخصیات کو دست ِقدرت نے یکجا کردیاتھا۔ اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ طالب جوہری کے ساتھ ایک پورا جہان اُٹھ گیاہے۔ ایک ایسا جہان جس میں ایک اسکالر،مفسر، مورخ ، مفکر، فلسفی ،خطیب ، شاعر، ادیب، دانشور اور ایک انتہائی مہذب، شائستہ ،وضعدار اور باوقار انسان بھی موجود تھا۔ وہ محض اتحاد بین المسلمین کے داعی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس کیلئے اپنی فکری توانائیوں کو وقف کررکھا تھا۔انہوں نےاپنی تحریروں اور تقریروں سے کبھی اختلافات اور تعصبات کو ہوا نہیں دی بلکہ انہیں حتی المقدور دورکرنےکیلئے سرگرم عمل دکھائی دئیے۔علامہ طالب جوہری نے دیس دیس میں جاکر اپنی خطابت کے جوہر دکھائے اور علم وعرفان کے گوہر لٹائے۔ان کا مسلک حب ِ اہل بیت ِ اطہارتھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسوں اور کربلا کے پیاسوں کےفضائل بیان کرنے میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ قرآن حکیم کے مفسر تھے ۔اسی لئے کسی بھی موضوع پر گفتگو کاآغاز کرتے تو کسی آیت قرآنی ہی کو بنیاد بناتے۔دلیل قرآن حکیم سے لاتے ۔ احادیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات آگے بڑھاتے ۔ ائمہ ء معصومین کےارشادات کی روشنی سے معرفت کے چراغ جلاتے۔ ان کے لب و لہجے کو وہ تاثیر قدرت نے عطا کررکھی تھی کہ ان کی ایک ایک بات کانوں کے راستے سے سننے والوں کے دلوں میں اترتی چلی جاتی تھی۔ روح کو آسودگی ملتی اور ایمان تازہ ہوجایا کرتا تھا ۔وہ کبھی کسی کا مسلک چھیڑتے نہیں تھے اور اپنا مسلک چھوڑتے نہیں تھے ۔محبت ، مروت اور مودت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور سچ پوچھئے تو انہوں نے ساری زندگی محبت، مروت اور مودت ہی کے چراغ روشن کرکے ایمان کا اجا لا پھیلایا۔منبر ِرسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کا ہمیشہ خیال رکھا۔اس منبر پرآکر کبھی کوئی ایک جملہ ، کوئی ایک بات ،کوئی ایک لفظ ایسا زبان سے ادا نہیں کیا جوکسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی دل آزاری کاباعث بنتا۔ یہی وجہ ہےکہ ان کی مجالس میں اہل ِسنت والجماعت سمیت تمام مسالک کےعلمائے کرام اور پیروکاران بھی بڑی تعداد میں شریک ہوکر اپنی علمی پیاس اور ذوق و شوق کی تسکین کاسامان بہم پہنچاتے تھے۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روشنی پھیلانے میں انہوں نے جو کارنامے انجام دئیے ،انہیں مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکے گا ۔
علامہ طالب جوہری نے ایک علمی اور دینی گھرانے میں بائیس اگست انیس سو انتالیس کوآنکھ کھولی ۔ یہ گھرانہ متحدہ ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں آبادتھا ۔ آیات قرآنی کی تلاوت بچپن میں لوریوں کی صورت میں بھی سنیں ۔گھرکی فضائیں دورودو سلام سے گونجتی رہتی تھیں ۔ سلام اور مناقب کی شکل میں اہل بیت اطہار کی فضیلتوں سے آشنا ہوتے رہے ۔یہ گھر نہیں ایک تہذیبی اور تعلیمی ادارہ بھی تھا۔ والدبزرگوار نے ان کی تعمیر شخصیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دل میں حصول ِ علم کی آتش ِ شوق بھڑکا دی ۔ جتنی کتابیں پڑھتے رہے، اتنی ہی یہ آگ دل کے آتش کدے میں بھڑکتی رہی۔ اعلی ٰ مذہبی تعلیم کےحصول کیلئے ان کے والد بزرگوار نے انہیں مولائے کائنات حضرت علی مرتضی ٰ کرم اللہ و تعالی ٰ وجہہ الکریم کے شہر نجف اشرف بھجوادیا۔ ان کے تیور بتارہے تھے کہ یہ سفر اسی استقامت کے ساتھ جاری رہا تو وہ دنیائے علم و ادب میں بڑا نام ،احترام اور مقام کمائیں گے ۔اورایسا ہی ہوا۔ ۔دیکھتے ہی دیکھتے ان کی علمی شہرت و مقبولیت کا دائرہ پھیلتا چلاگیا گے
علامہ طالب جوہری کی مرتب کردہ کتابوں نے دیس دیس میں دھوم مچائے رکھی ۔انشااللہ العزیز علم و ادب کے یہدئیے رہتی دنیا تک روشن رہیں گے۔

علامہ طالب جوہری بلاشبہ خوبصورت کتابوں کے طالب بھی تھے اور نایاب کتابوں کے جوہری بھی ۔انہوں نے خود بھی جو شاہکار کتابیں لکھیں یا تخلیق کیں ، ان میں تفسیر قرآن ، احسن الحدیث ،حدیث ِکربلا، مقاتل ،اور علامات ِ ظہور امام مہدی علیہ السلام بھی شامل ہیں ، جن میں علامہ طالب جوہری کا تبحر ِ علمی بولتا ہوا محسوس ہوتاہے۔زندگی مجالس ِ عزا برپا کرتے گزری ، اس لئےان حوالوں سے بھی آپ نےروح پروراورایمان افروز کتابیں لکھ کراپنے جذبوں کو کتابوں میں اجاگر کردیا۔ اس حوالے سے ان کی یادگار کتابوں میں مجالس ۔ اساس ِ آدمیت اورقرآن،مجالس ۔میزان الہدایت اورقرآن۔مجالس۔ منصب ِ ہدایت اورقرآن، مجالس ۔میراث ِ عقل الوحی الہیٰ،مجالس ۔انسانی معاصراورقرآن،مجالس۔ انسانیت کاالوحی منشور، مجالس۔ عالمی معاشرہ اورقرآن، یہ وہ کتابیں ہیں جن میں حب ِ اہل ِبیتِ اطہار سانسیں لیتی محسوس ہوتی ہے ۔ذکرِ معصوم ، نظام ِحیات انسانی اور خلفائے اثناعشری بھی ان کی ایسی تین کتابیں ہیں ،جودلوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کی مقرب ہستیوں کی محبت جگاکر پڑھنے والوں پر فکروخیال کے نئے دروازے کھول دیتی ہیں۔ان کی کتاب عقلیات ِ معاصر کو پڑھ کرایک زیرک فلسفی ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتاہے ۔ان کے کئی شعری مجموعےبھی دنیائے ادب میں موضوع گفتگو بنے رہے، جن میں حرفِ نمو، پسِ آفاق اورشاخ ِ صدا شامل ہیں ۔ان شعری مجموعوں میں ایک صاحب ِ طرز اورقادراکلام شاعر سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں کے تار ہلاتا نظرآتا ہے ۔ان کی شاعری میں کلاسکیت کے رچاءوکے ساتھ جدت کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔اوراسے پڑھ کر ایک قدآور ادبی شخصیت سامنے آتی ہے۔ایک ایسی شخصیت جس کےخیال میں ترفع، فکرمیں تعمق، جذبےمیں تعشق، اور اسلوب میں ایسا تاثر موجود ہے کہ سننے اور پڑھنے والا اس کی گہرائیوں اور توانائیوں کے بارے میں سوچ سوچ کر گھنٹوں سر دُھنتا رہے۔
ملتان اور لاہور کو میں نے قریباً پندرہ سترہ سال پہلے خیرباد کہہ دیاتھا ۔کراچی میں ڈیرہ ڈالنے کےبعد نشترپارک اور دیگر اہم مقامات پر مجالس عزامیں مجھے سیکڑوں بار علامہ طالب جوہری کوسننے کااعزاز حاصل ہوا ۔ہربار روح کو آسودگی اور ایمان کو تازگی ملی۔ ۔ انہیں جتنا سنا ،مزید سننے کااشتیاق بڑھتا چلا گیا۔اس سے پہلے میں انہیں ملتان میں صرف ایک بار سابق ڈائریکٹرتعلقات عامہ سید اظہرامام زیدی کے ساتھ جاکر حضرت سید یوسف شاہ گردیز کے دربار میں سننے کااعزاز حاصل کرچکا تھا،وہاں سے واپسی پر اظہرامام زیدی صاحب نے ان کی شخصیت کےبہت سے پہلووں پر روشنی ڈالی ۔اسی لئے کراچی جاکر انہیں سننا میں نے اپنا معمول بنالیا ۔ ایک اوراہم واقعہ بھی مجھے یاد آرہاہے۔ہم لاہورمیں تھے محترمہ منصورہ احمدکافون آیا اور انہوں نے کہا بابا یعنی محترم احمد ندیم قاسمی صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں اور پھر قاسمی صاحب نے بتایا کہ ہم بہت تھوڑی دیر کیلئے علامہ طالب جوہری صاحب کے ساتھ آپ کے گھر آرہے ہیں۔ میرے والد گرامی یہ ُسن کر جی اٹھے ۔انہوں نے اصرارکرکے مختصر ملاقات کو ظہرانے میں تبدیل کرانے پر علامہ صاحب کو راضی کرلیا۔ نظم کے عظیم اور معروف شاعر اختر حسین جعفری اپنے صاحبزادےمنظر حسین اختر اور مشکورحسین یاد کے ساتھ تشریف لے آئے۔ادب لطیف کی چیف ایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم کو بھی میں نے فون پر آگاہ کردیا۔ روزنامہ ڈان کے اشفاق نقوی کوبھی مدعو کرلیاگیا۔ مایہ ء ناز صداکاراور فلمی اداکار محدو علی بھی آگئے ۔ اہم ادبی موضوعات پر بڑے لوگوں کے مابین گفگتگو شروع ہوگئی۔ اوربڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد علامہ طالب جوہری ابو کی طرف متوجہ ہوئے اور امیر خسروکے بعد انہوں نے جوقول ترانہ تخلیق کیا ہے، اسے سننے کی فرمائش کردی۔ فضا من کنت مولا فھذا علی مولا کی صداءوں سے گونج اٹھی۔ علامہ طالب جوہری نے بڑے ذوق و شوق سے یہ سنا اور فرمایاکہ امیرخسرو کے سات سو سال بعد نیا قول ترانہ تخلیق کرنا بجائے خود اہمیت کاحامل ہے اور بلاشبہ سید فخرالدین بلے صاحب کا یہ قول ترانہ معرفت کاانمول خزانہ ہے ۔علامہ طالب جوہری نے احمد ندیم قاسمی اور محترم اختر حسین جعفری سے ان کے تازہ کلام کی فرمائش کردی۔ یہ کلام سن کر میرے والد محترم سید فخرالدین بلے نے اتنا کہا کہ آج کے عہد میں اختر حسین جعفری سے بڑا نظم کا کوئی شاعر ہوتو علامہ صاحب مجھے اس کا نام ضرور بتائیےگا۔ اداکار محمد علی نے انیس اور دبیر کا کلام اپنے مخصوص انداز میں سنا کر سماں باندھ دیا۔۔ علامہ طالب جوہری سے ان کا شعری کلام بھی سناگیا۔ انہوں نے اپنی کئی نظمیں اور غزلیں سناکردامان ِ سماعت کو علم و عرفان کے موتیوں سے بھر دیا۔ ۔ یہ بیٹھک کئی گھنٹے رہی اور اس کے نقوش اب بھی میری یادداشتوں میں محفوظ ہیں ۔ ایک یہی نشست کیا ؟ جہاں جہاں اور جب جب بھی میں نے علامہ طالب جوہری کوسنا،ان تمام یادوں اور باتوں کو شاید میں عمر بھر نہیں بھلا پاءوں گا۔علامہ طالب جوہری کے حوالے سے کچھ قطعات قلم برداشتہ صفحہ ء قرطاس پر منتقل ہوگئے ہیں ۔ میں اظہار عقیدت و محبت کیلئے انہیں قارئین کرام کی نذرکررہاہوں ۔ملاحظہ فرمائیں
سوگ میں ڈوبی ہے دنیا،اب فضا ہی غم کی ہے
موت اِک عالِم کی بے شک، موت اِک عَالَم کی ہے
ساکت و صامت کھڑے ہیں پیڑپودے کیا کہوں؟
اتنا کہہ سکتاہوں لیکن یہ گھڑی ماتم کی ہے۔
۔۔۔
۔لکھی ہے جو آپ نے تفسیر قرآن ِ مبیں
سب مسالک کا ہے کہنا آفریں صد آفریں
منبر ِِ سرکار سے جوہر خطابت کے کھلے
آج طالب جوہری سا دوسرا کوئی نہیں
۔۔۔۔
فلسفی بھی ہیں ،مفکر بھی ہیں ، شاعر بے مثال
دیدہ ور ہیں، نکتہ بیں ہیں ،جامع ِ فضل و کمال
مسلکوں کے بیچ میں پُل آپ اِک بن کر رہے
اللہ اللہ خوش کلام و خوش مزاج و خوش خصال
علامہ طالب جوہری خوبصورت کتابوں کے طالب اور نایاب کتابوں کے جوہری رہے۔ کتابوں کی دنیا اور اپنی بنائی ہوئی لائبریری ہی کے احاطے میں انہیں آخری آرام گاہ نصیب ہوئی۔ اللہ تعالی ٰ سے دعاہے کہ ان کی قبر پر رہتی دنیا تک رحمتوں کی برسات جاری رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک ان کی کتابیں موجود ہیں ، وہ زندہ رہیں گے ۔انہیں ریاست پاکستان کی طرف سے ستارہء امتیازسے نوازا گیا۔مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اس سے ان کاقد و قامت نہیں بڑھابلکہ اس ستارہ ء امتیاز کو چار چاند لگ گئے ہیں
سید ظفر معین بلے














بہترین اور فکر افروز خراج تحسین و عقیدت ایک عظیم تریں مفکر مفسر ادیب شاعر اور ذاکر آل محمد کے حضور۔ سیدی سدا سلامت رہیں