وفاقی وزراء نے ایک بار پھر پاناما لیکس کو غیر ملکی سازش قرار دیدیا ،وفاقی وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاناما سازش کے ڈائریکٹر ملک سے باہر بیٹھے ہیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ دو ماہ نہیں ایک ڈیڑھ سال کی تیاری کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر ظفر اللہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت میں ایسا جواب دیں گے کہ کل جنم لینے والا بیانیہ بدل جائےگا ،بعض سیاسی اداکار کام کررہے ہیں ،ان کو جواب دیں گے
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں احتساب کے ادارے موجود ہیں ،آزاد عدلیہ بھی موجود ہے ،جے آئی ٹی کا کام یک طرفہ ٹریفک چلانا نہیں تھا، کم از کم آصف زرداری اور عمران خان کو اخلاقی جواز کی بات نہیں کرنی چاہئے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مخالفین عدالتی ریمارکس کاغلط استعمال کرتےہیں،ہمیں ووٹرزکوجواب دیناپڑتاہے، سیاست خیرات میں نہیں لی اور نہ ہی کسی ڈکٹیٹر سے لی،نواز شریف کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ،جواب سپریم کورٹ میں دیں گے۔
ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ایٹمی دھماکوں کے فیصلے کے وقت بھی معلوم تھا خمیازہ بھگتنا ہوگا،عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش دستاویزات پرجےآئی ٹی نے کوئی سوال نہیں پوچھا ،بد نیتی پرمبنی رپورٹ بنائی جس میں افسانےاوررائی کاپہاڑہے،ایک دن میں بغلیں بجانے اور ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں ۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان اخلاقیات کے مامے چاچے بنے ہوئے ہیں ،تقریریں میں بچپن سے کرتا ہوں اور مرتے دم تک کروں گا ۔
اس موقع پر بیرسٹر ظفر اللہ کا کہناتھاکہ رپورٹ میں اور عدالتی فیصلے میں فرق کرنا چاہیے ،جے آئی ٹی رپورٹ ان کی اپنی رائے یا ان کی خواہشات ہیں ،ایسی رپورٹس تو آتی ہیں اور خان صاحب کے خلاف ایسی رپورٹس بہت ہیں۔











